پہلا مرحلہ : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی جانب سے، تنظیم سازی کے ساتھ، کراچی کے موجودہ نام”کراچی“ کو تبدیل کرنے کی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ کراچی کے نئے تجویز کردہ نام ”کراچستان“ یا اس سے بہتر اور مناسب نام کی تلاش کیلئے،عوام سے رابطہ کیا جائے گاتاکہ منتخب نام سے کراچی کو آئینی اور قانونی پر موسوم کیا جائے۔
دوسرا مرحلہ : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی جانب سے، پاکستان کے استحکام سمیت عظیم شہرکراچی کے باشندوں کے اطمینان، سکون،ترقی، خوشحالی اور مستقبل کیلئے، تین ترجیحی سوالات پر، صوبائی اور وفاقی سطح پر، تمامتر ضروری مشاورت کے بعد، آئین اور قانون کے دائرہ میں،قومی ریفرنڈم: برائے عظیم الشان شہرکراچی کیلئے عوامی مشاورت کے بعد، ملک گیر”عوامی رابطہ مہم“کا آغاز کیا جائے گا۔
تیسرا مرحلہ : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی جانب سے، نئے نام”کراچستان“ کی آئینی منظوری کے بعد، عوام سے رجوع کیا جائے گا تاکہ کراچی اور پاکستان کو درپیش مسائل اور ان کے قابل عمل حل کیلئے، تحریری تجاویز ارسال کریں۔کراچستان سے متعلق وصول کردہ تجاویز کو، پہلے سے موجود حکمت عملی میں شامل کرکے، ”پہلے تعمیر کراچستان“ کے وسیع منصوبہ پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
چوتھا مرحلہ : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی جانب سے، کراچستان کی ترقی اور خوشحالی کے بعد،پاکستان سے متعلق وصول کردہ تجاویز کو،پہلے سے موجود حکمت عملی میں شامل کرکے، ”پھر تکمیل پاکستان“کے وسیع منصوبہ پر عملدرآمدکیا جائے گا۔
کراچی کے موجودہ نام کو کراچی کی وسعت کے مطابق وسیع اور تبدیل کرنے کیلئے عوامی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ کراچی کے نیا تجویز کردہ نام ”کراچستان“ یا اس سے بہتر اور مناسب نام کی تلاش کیلئے عوام سے رابطہ کیا جائے گاتاکہ منتخب نام سے کراچی کو آئینی اور قانونی طورپر موسوم کیا جائے۔ واضح رہے کہ تجویز کردہ جدید وسیع نام، ”کراچستان“کراچی اور پاکستان کے باہمی ملاپ سے مرتب کیا گیا ہے۔ کراچی کے نام کی تبدیلی کیلئے، ارباب اختیار کو خطوط بھی لکھے جائیں گے۔اس ضمن میں صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین سینیٹ آف پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، فیلڈ مارشل پاکستان، تمام صوبائی وزرائے اعلٰی، تمام صوبائی گورنرز، تمام صوبوں کے چیف جسٹس،تجارت و صنعت کی تنظیموں، اردو ڈکشنری بورڈ، صوبائی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اخبارات اور سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت دیگر اکابرین پاکستان سے جلد تحریری رابطے کیے جائیں گے تاکہ ان تمام اکابرین کی مشاورت سے کراچی کے نام کی تبدیلی ممکن ہو سکے۔
آئین پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کو سو فیصد ناممکن بنا دیا گیا ہے۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 239 کی شق (4) کے مطابق نئے صوبے کے قیام کیلئے مقرر کردہ آئینی طریقہ کار کے مطابق ترمیمی بل پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ مزید برآں، کسی بھی صوبے کی حیثیت یا حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی لازمی شرط ہے۔
پہلا : کیا پاکستان کے کسی بھی صوبہ کے عوام یعنی ووٹر زکی جمہوری امنگوں اور مستقبل کیلئے،آئین پاکستان کے آرٹیکل 239 کی شق (4)، جس پر عملدرآمد ممکن نہیں،بدترین سنگین آئینی مذاق نہیں؟
دوسرا : مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ سمیت پاکستان بشمول دنیا بھر کا کوئی بھی صاحب عقل اور دانش، آئین پاکستان کے آرٹیکل 239 کی شق (4) کو عوامی جمہوری امنگوں اور مستقبل کیلئے عدل اور انصاف کے عین مطابق ثابت کر سکتا ہے؟
تیسرا : نتیجہ بہت واضح ہے کہ جب پاکستان کے کسی بھی صوبہ کے عوام یعنی ووٹر زکی جمہوری امنگوں اور مستقبل کیلئے،آئین پاکستان کوئی سنجیدہ قابل عمل حل اور راستہ نہیں نکالے گا تو پھر جمود طاری ہوگا۔سیاستدان موقع کا فائدہ اٹھائیں گے۔ عوام احتجاج، دھرنے، ریلی، جلسے، جلوس، مار پیٹ، قتل و غارتگری کے راستے تلاش کرنے لگیں گے۔ حکومتیں گرفتاریاں کریں گی اور پھر دونوں جانب سے ہتھیار ڈال دیئے جائیں گے اور پھر مذاکرات ہوں گے۔
چوتھا : بہتر ہوگا کہ آئین، ریفرنڈم، سروے اور عوامی رائے کے ذریعہ پاکستان کے کسی بھی صوبہ کے عوام یعنی ووٹر زکی جمہوری امنگوں کیلئے حل تلاش کئے جائیں اور راستے بنائے جائیں۔ عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد ایک مؤثر اور جمہوری راستہ ہو سکتا ہے۔
: عام طور پر نئے صوبہ کی مخالفت کرنے والے، آئین کے آرٹیکل: 239 (4) اور نئے صوبہ بنانے والے آئین آرٹیکل: 48 (6) کے حوالے بیان کرتے ہیں۔ جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں
لیکن کیا کسی صوبہ کے تمام عوام یا ان کی دو تہائی اکثریت کسی نئے صوبہ کی طلبگار ہو گی؟ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ بلکہ کسی بھی صوبہ کی دو تہائی اکثریت کے ظلم و زیادتی اور استحصال کی وجہ سے ہی ایک تہائی اقلیت اپنے لئے نئے صوبہ کی طلبگار ہوتی ہے۔ اس صورتحال کا واحد حل صرف ریفرنڈم ہے لیکن ریفرنڈم کے بارے میں آئین کی صورت درج ذیل ہے
پاکستان میں وزیر اعظم بننے کیلئے، ان جماعتوں سے ہاتھ ملانا اور پاؤں پکڑنا لازم ہے، جن کے ساتھ دل اور دماغ نہیں ملتے ہیں،پھرکس طرح ممکن ہے کہ کوئی وزیر اعظم اپنے ضمیر کی آواز پر کسی علاقہ کے عوام کی صدا پر، اپنے شامل اقتدار سیاستدانوں کے بر خلاف کسی صوبہ کی تقسیم اور نئے صوبہ کی تشکیل کیلئے، درج بالا آرٹیکل کی شق پر عملدرآمد کرے۔نیز یہ آرٹیکل اور شق”قومی اہمیت“سے متعلق ہے، ”صوبائی اہمیت یا علاقائی اہمیت“ کے معاملات سے متعلق نہیں۔
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ یقین رکھتی ہے کہ ایک قومی ریفرنڈم پاکستان بچا سکتا ہے۔پاکستان کے استحکام سمیت عظیم شہرکراچی کے باشندوں کے اطمینان، سکون،ترقی، خوشحالی اور مستقبل کیلئے، درج ذیل تین ترجیحی سوالات پر، صوبائی اور وفاقی سطح پر،تمامتر ضروری مشاورت کے بعد، آئین اور قانون کے دائرہ میں، ایک آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ریفرنڈم ناگزیر ہو چکا ہے۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ اس ضمن میں عوامی مشاورت کے بعد، جلد ملک گیر”عوامی رابطہ مہم“کا آغاز کرے گی۔
اوّل ترجیح: کیا آپ،بحیثیت کراچی کے شہری، موجودہ صورتحال کے مطابق، جوں کا توں، بدستورحکومت سندھ کے زیر انتظام رہنا پسند کریں گے؟
دوئم ترجیح: کیا آپ،بحیثیت کراچی کے شہری،مستقبل میں، حکومت پاکستان وفاقی حکومت کے زیر انتظام رہنا پسند کریں گے؟
سوئم ترجیح: کیا آپ،بحیثیت کراچی کے شہری، مستقبل میں کراچی کو الگ آزاد خود مختارصوبہ بنا کر، اس میں رہنا پسند گے؟
نوٹ: قومی ریفرنڈم برائے عظیم شہرکراچی کے ضمن میں، کراچی میں مقیم عظیم شہری،بشمول پاکستان بھر کے عظیم شہری مع بیرون ممالک مقیم عظیم پاکستانی اپنے تحریری مشورہ، تنقید اور تبصرہ سے مطلع کر سکتے ہیں۔موصولہ قابل قدر مشورہ، تنقید اور تبصرہ کو گرانقدر اہمیت دی جائے گی۔ کراچی کے عوام کی مرضی کے مطابق مجوزہ نئے صوبہ کا نام کراچستان کے علاوہ کراچی سمیت کچھ بھی ممکن ہے۔ارباب اقتدار کیلئے لازم ہے کہ اس تجویز پر غورکریں کہ کہیں پھردیر نہیں ہو جائے اور کراچی کے عوام صورتحال سے تنگ آمد، بجنگ آمد آکر کہیں کسی”چہارم ترجیح“ پرمتحد نہیں ہو جائیں کہ وقت بڑا ظالم ہوتاہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت کراچی کا ہر شہری خود کش بمبار نہیں بلکہ آتش فشاں بنا پھر رہا ہے اور اللہ تعالٰی سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ آسمانوں میں فیصلے ہونے میں دیر نہیں لگتی۔عوام پاکستان کے مالک ہیں۔
© United Krachistan Movement| All rights reserved.