آغاز کارواں، اہلیان کراچستان
سفر منجانب ، منزل پاکستان
اہلیان کراچستان کومتحد کرکے، کارواں کا آغاز کیا جائے گا تاکہ کراچستان کی خوشحالی،ترقی اورکامیابی کے بعدپاکستان کی حقیقی منزل مقصود کی جانب آغاز سفرکیا جاسکے۔
اللہ نے ہرانسان کی زندگی (انفرادی اور اجتماعی) کی بنیاد، تغیرو تبدل یعنی انقلاب زمان و مکان پر متعین کر دی ہے۔
اربعہ عناصرکی اہمیت سے انکارممکن نہیں تاہم، اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ بگولے، جو مٹی، خاک، دھول کا بے ہنگم اور بے قابو قدرتی مجموعہ ہوتے ہیں اور زمین سے، اُٹھ کر ہوا کے دوش پر، پانی اور آگ کی باہمی طاقت سے، چشم زدن میں، محل اور محلات، ان میں مقیم طاقتور انسان نماہمالیائی دیوتاؤں کی اینٹ سے اینٹ ٹھونک بجا کر رکھ دیتے ہیں۔
تاریخ انسانی میں، زمین سے اُٹھنے والے بھوکے، پیاسے، نہتے، جتھے طوفانی انقلابی بگولوں نے ہی ہلچل مچائی ہے، یلغار بپا کی ہے اور انقلاب برپاکئے ہیں۔ بلا شبہ، بگولے زمین کے باسی ہوتے ہیں، محلات کے نہیں۔
،بگولے خاک سے بنتے ہیں اور بربادی اور تباہی مچا کر، مظلوم،خاموش اور کمزورہم وطنوں کیلئے،قیامتیں برپا کرکے
! خونی انقلاب کی سرخ مسندو سیج سجا کر، خود خاک خاک اور امرامر ہو جاتے ہیں کہ یہی حکم اورمشیت ایزدی ہے
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ نے اس یقین کامل کے ساتھ آغاز سفر کیا ہے کہ نہ تمام اشرافیہ غلط ہے اور نہ تمام اغرابیہ صحیح ہے، نہ تمام اشرافیہ ظالم ہے اور نہ تمام اغرابیہ مظلوم ہے، نہ تمام اشرافیہ بد دیانت ہے اور نہ تمام اغرابیہ ایماندارہے۔ اصلاح اور تبدیلی کی ضرورت دونوں طبقات یعنی اشرافیہ اور اغرابیہ کو ہے۔ کسی کے داخل جنت اور واصل جہنم کا فیصلہ انسان کا اختیار نہیں کیونکہ کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا ہے کہ بعد از انتقال خود اس کا مقام اور ٹھکانہ کیا ہوگا۔ تاہم، دنیاوی معاملات کے عمل اور ردعمل کیلئے آئین اور قانون کی اہمیت اور ضرورت انسانی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اور یہی بنیاد،یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کا نکتہ آغاز ہے۔
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، یہ نئی جدوجہد نہیں، بلکہ جاری جدوجہد کا جدید بھرپورآغازہے۔
سوال: انصار عبدالقہار نے فریڈم اور نیشنل فاؤنڈیشن کونسل کے تحت قائم تنظیموں کی جاری جدوجہد کو کیوں روک دیا تھا؟
جواب: انصار عبدالقہار نے وسیع تر قومی مفادات میں تمام سیاسی اور مذہبی رہنماؤں بشمول ان کی جماعتوں سے مثبت امید رکھی اور موقع دیا کہ کراچی سمیت پاکستا ن کے حالات آیندہ پچیس سال میں ٹھیک کر دیئے جائیں گے۔
نتیجہ: انصار عبدالقہار نے دیکھاکہ پچیس سال میں بھی کوئی قابل قبول نتیجہ نہیں نکل سکا بلکہ کراچی سمیت پاکستا ن کے معاشی، سیاسی، تعلیمی اور سماجی حالات مزید بدترین ہوگئے ہیں نیزمستقبل میں بھی کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔
حل: انصار عبدالقہار نے فیصلہ کیا ہے کہ مخلص ساتھیوں اور محب وطن مخلص افراد کے مشاورتی اور عملی تعاون سے، علاقائی رہنماؤں کی طاقت سے ”بس، اب سب کچھ، ازسرنو“ حکمت عملی کے ساتھ، رکاوٹوں کی پرواہ کئے بغیر ”یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ“ کے تحت ”پہلے تعمیر کراچستان، پھر تکمیل پاکستان“ کے اصلاحاتی اور انقلابی سفر کا آغاز کیا جائے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر عملدرآمدکے باوجود، پاکستان کے عوام کی زندگیوں میں ایک فیصد بھی بہتری، خوشحالی اور ترقی نہیں لا سکی ہیں۔ پاکستان اور عوام کی حالت اور حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بدتر ہو گئے ہیں۔خاص طور پر کراچی کے عوام کیلئے بہتری، خوشحالی اور ترقی کی دعویدار سیاسی جماعتیں بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔کراچی تباہ اور برباد ہوچکاہے جبکہ کراچی کے عوام نے بلا امتیاز تمام سیاسی جماعتوں کواپنی محبت، وقت، دولت اور گولیاں کھانے کیلئے اپنی زندگیاں تک پیش کیا لیکن افسوس پیرس، نیویارک، دبئی اور لندن بنانے کے دعویداروں نے، اپنی جائیدادیں پیرس، نیویارک، دبئی اور لندن میں تعمیر کرکے،کراچی کو”سندھی گوٹھ“بنا دیا ہے۔
کراچی کی میئر شپ، جناب عبدالستار افغانی : 1979 -1987 •
کراچی کی میئر شپ، جناب فاروق ستار : 1988-1992 •
کراچی کی میئر شپ، جناب نعمت اللہ خان : 2001-2005 •
کراچی کی میئر شپ، جناب وسیم اختر : 2016-2020 •
(کراچی کی میئر شپ، جناب مرتضیٰ وہاب : 2023- 2027 (جاری ساری ہے •
تمام سابقہ اور موجودہ میئرشپ کی کارکردگیوں کے ضمن میں کسی بھی سروے اور ریفرنڈم کی قطعی ضرورت نہیں کیونکہ شہرکراچی کا ماضی اورحال نوشتہ دیوار ہے اور شہر کراچی کے ہر باشندے کے مایوسی میں غرق چہرے پر رقم ہے۔ تباہی اور بربادی کے اندھیرے کراچی کے عوام کا حال اورمستقبل ہیں۔شہر کراچی میں، اگر سب کچھ ٹھیک ہوتا تو، کسی کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن کراچی شہر کی متعدد میئرشپ کی کوششوں کے باوجود،کراچی کی پسماندگیاں اور سیاسی جماعتوں کی ناکامیاں بالآخر، یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے قیام کا باعث بنی ہیں۔
© United Krachistan Movement| All rights reserved.