کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب
ایک آبلہ پا وادی پرُ خار میں آوے
اورتبدیلی، اصلاحات اور انقلاب پسندوں کا حال، بزبان مرزا غالب، کچھ یوں ہے
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پرُ خار دیکھ کر
یقین کامل ہے کہ جلد بلند حوصلہ با ہمت افراد بھی، اس سفر میں شامل ہوں گے، جو کہ بقول بشیر احمد شاد
گھبرا گئے تھے راہ کو پرُ خار دیکھ کر
ہمت بندھی ہے قافلہ سالار دیکھ کر