٭ یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی جانب سے،کراچی کیلئے،اصطلاحی، اصلاحاتی اور انقلابی لفظ ”کراچستان“ کا استعمال مکمل وسیع نظریاتی اہمیت کا حامل ہے۔ کراچستان کا مقصد کراچی اور پاکستان کے عوام کی بغیر اقتدار خدمت ہے، یعنی اپنی مدد آپ کے اصول پر اہلیان کراچی، اپنے اتحاد، طاقت اور وسائل کی بنیاد پر کراچی کی تباہ شدہ حالت کو ٹھیک کریں گے۔ کراچی کیلئے،اصطلاحی، اصلاحاتی اور انقلابی لفظ ”کراچستان“ کا استعمال منفرد تنظیمی شناخت ہے، جس پر کسی قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔کراچی کے حوالہ سے جب مستقبل کی بات ہوگی تو کراچستان کہا اور لکھا جائے گا۔کراچی کیلئے اصطلاحی، اصلاحاتی اور انقلابی لفظ ”کراچستان“ استعمال کرنے پر اعتراضات کرنے والے افراد اور ادارے ہمارے خلاف عدلیہ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
٭ یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے عظیم منصوبہ، ”پہلے تعمیر کراچستان، پھر تکمیل پاکستان“ کی راہ میں، تمام مخالفین اور رکاوٹیں ڈالنے والے، وہ تمام الزامات مجھ، انصار عبدالقہار سمیت میرے ساتھیوں پر بھی لگائیں گے، جو، ہمیشہ پاکستان کی حکومتی، سیاسی،مذہبی اور عوامی تاریخ میں بیدریغ اور مسلسل استعمال ہوتے رہے ہیں۔۔۔ لیکن ہمیں کوئی پرواہ نہیں
نوٹ: نیشنل اکیڈمی آف پولیٹیکل اؤیرنیس کی ویب سائیٹ پر نیوز لیٹرز: اگست 2011 میں شائع کردہ ایک مضمون میں پہلی مرتبہ اصطلاحی، اصلاحاتی اور انقلابی لفظ ”کراچستان“ استعمال کیاگیا تھا۔
کراچی جل رہا ہے، سلگ رہا ہے، تباہ اور برباد ہو رہا ہے۔ ہم سب بانسری بجا رہے ہیں، ڈھولک پیٹ رہے ہیں، کرکٹ،کھیل اور تفریح کیلئے فکرمند ہورہے ہیں۔ کراچی کے مسائل سب کو معلوم ہیں، ان مسائل کے حل بھی سب اچھی طرح جانتے ہیں لیکن کوئی بھی کراچی کے مسائل کو حل کرنا نہیں چاہتا ہے۔اہلیان کراچی کے حقوق فوری توجہ چاہتے ہیں۔کراچی میں تشدد اور نفسیاتی امراض کی شرح پاکستان سے زیادہ ہے۔کراچی میں جاری مقامی حکومتوں کا نظام بشمول امن و امان کا نظام مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ کل کا کولاچی، کبھی کراچی تھا لیکن اب”کچراچی“ بن چکا ہے۔کراچی کی ترقی اور خوشحالی کیلئے تجارت، صنعت،کاروبار اور زراعت کو سرکاری سطح پر فوری سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ پانی، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اورجدید ترین سرکلر ریلوے، کراچی کے شہریوں کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کراچی کی پولیس، آبادی میں اضافہ کے باعث، کراچی کے امن و امان کے مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکی ہے۔کراچی کے عوام سمجھتے ہیں کہ سندھ حکومت کو کراچی اور کراچی کے عوام سے کوئی دلچسپی نہیں اورکراچی کو منظم سازش کے تحت”سندھی گوٹھ“ بنا دیا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کراچی سب کا ہے، کراچی کا کوئی نہیں، جبکہ کراچی کو بچانا، پاکستان کو بچانا ہے۔بلاشبہ، آج کا کراچی، کل کا ”عظیم کراچستان“ ہے۔
عظیم سچائی ہے کہ عظیم کراچی اب محض شہر کراچی نہیں رہا بلکہ اپنے مجموعی او ر اجتماعی حجم کے اعتبار سے، دنیا کے متعدد شہروں اور ممالک سے رقبہ، آبادی، وسائل اور حیثیت کے لحاظ سے وسیع ترین ہو چکا ہے۔ماضی کا شہر کراچی جو کبھی محبت سے ”منی پاکستان“ کہلاتا تھا، اب وسیع ہو کر، خود”پاکستان“بن چکا ہے۔ کراچی مکمل پاکستان کی پھرپور نمایندگی کرتا ہے۔کراچی اور پاکستان کو باہم (کراچ+ ستان) ملا کر ”کراچستان“بنایا گیا ہے تاکہ مکمل پاکستان کی مکمل نمایندگی واضح اور یکجا نظر آئے۔ موجودہ شہرکراچی کی معاشی، سیاسی، سماجی، تعلیمی اور اخلاقی تباہی اور بربادی کو مد نظر رکھتے ہوئے، یہ مناسب وقت ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے تاریخی شہر، کو نئی اصلاحاتی، تعمیری اور انقلابی سوچ کے ساتھ ایک نئے جدید، وسیع البنیاد اورعظیم الشان عنوان”کراچستان“کے نام سے موسوم کیا جائے۔
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی ترجیحات میں، عظیم شہر کراچی کے نئے نام ”کراچستان“کی آئینی اور قانونی منظوری کے بعد،عوام کی زندگیوں میں سماجی، معاشی، سیاسی،صنعتی اورتعلیمی انقلاب برپا کرنا ہے۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ انتخابات کے ذریعہ اقتدار پر قابض ہونے والی سیاسی جماعت نہیں بلکہ سیاسی، سماجی،معاشی سمیت تمام قومی معاملات کی اصلاحاتی اور انقلابی تحریک ہے۔یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کبھی بھی حکومتی اقتدار اور حکومتی عہدوں کیلئے، پاکستان میں منعقد کسی بھی قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں حصّہ نہیں لے گی کیونکہ پاکستان میں انتخابی نظام مکمل طور پر ناکامیاب ثابت ہو چکا ہے۔ مسلسل ناکامیاب انتخابی نظام کے تحت، انتخابات میں کسی بھی طرح کامیاب ہونے والی کوئی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت اپنے منشور اور وعدوں پر عمل نہیں کر سکتی ہے۔پاکستان کی تباہی اورعوام کی بربادی کی وجہ ناکامیاب انتخابی نظام اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی ناکامیابی ہے۔قومی المیہ ہے کہ برسراقتدار سیاسی جماعت اپنی پانچ سالہ مدت بھی مکمل نہیں کر پاتی ہیں۔ یونائٹیڈ کراچستان موومنٹ اپنی مخصوص بنیادی حکمت عملی”پہلے تعمیر کراچستان، پھر تکمیل پاکستان“ کے مطابق عملی جدوجہد کرے گی۔ منصوبہ کراچستان کے تحت گرینڈ ماسٹر پلان تیار کیا جا چکا ہے۔ ”اپنی مدد آپ“کے تحت کراچستان کی جدید عالمی بنیاد پر تعمیرنو ممکن ہو گی۔
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، اس یقین کامل کے ساتھ، اپنی جدوجہدکا آغاز کر رہی ہے کہ عظیم کراچستان، درحقیقت پاکستان کی سیاست، معاشرت، معیشت، تعلیم سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کا نکتہ آغاز ہے۔ مزید برآں،1973 میں عوامی مسائل پر اخبارات میں مراسلات لکھنے اور 1974 میں ینگ سوشل ویلفیئر کمیٹی کے ذریعہ علاقائی مسائل پر جدوجہد سمیت آل پاکستان ووٹرز ایسوسی ایشن، نیشنل اکیڈمی آف پولیٹیکل اویئرنیس،آجرو اجیر یونائیٹڈ ویلفیئر ٹرسٹ(انٹرنیشنل)، آجرو اجیر یونائیٹڈ چیمبر آف کامرس، انڈسٹری اینڈ ایگریکلچر، پسماندگان ویلفیئر ٹرسٹ، بھٹو شہید ریسرچ اینڈ اسٹڈی ڈویلپمنٹ پلان، متاثرین پاکستان، تحریک احتساب اور پاکستان تبدیلی نظام پارٹی کے کچھ کامیاب اور کچھ ناکامیاب تجربات کے تجزیہ کے ساتھ، پاکستان سمیت دنیا بھر سے قابل قدر عہدیداران مع ہمدرد افراد سے ملنے والی تجاویز اور معلومات کے مطابق، مکمل پاکستان کیلئے ابتدائی طور پرجدوجہد ممکن نہیں۔ بہتر ہوگا کہ پہلے کراچستان کو ایک معیاری بین الاقوامی صورت میں مثال بنا کر، پھرمکمل پاکستان کیلئے جدوجہد عمل میں لائی جائے۔ کراچستان میں ہونے والی تمامتر منفی اور مثبت سرگرمیوں کا اثر مکمل پاکستان پر ہوتا ہے۔اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے،”پہلے تعمیر کراچستان، پھرتکمیل پاکستان“ کا فارمولا وضع کیا گیا ہے۔ مختصراً،”پہلے کراچستان، پھر پاکستان“ کہا اورلکھا جائے گا۔یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کے ذریعہ کراچستان کو مثالی بین الاقوامی جدید ترین شہر بنایا جائے گا تاکہ اس کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے، پاکستان کی ترقی اور خوشحالی بھی ممکن بنائی جا سکے۔ یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کے پاس درج بالا تنظیموں کے کامیاب اور ناکامیاب تجربات کے تجزیوں کے ساتھ، پاکستان سمیت دنیا بھر سے قابل قدر عہدیداران مع ہمدرد افراد سے ملنے والی تفصیلی تجاویز اور معلومات کے نتیجہ میں،عظیم پاکستان کے عظیم الشان مستقبل کیلئے مکمل قابل عمل مخصوص حکمت عملی اور قابل عمل منصوبہ تیار ہے، جس کے ذریعہ نہ صرف پاکستان پر واجب الادا تمام قرضہ جات کی ادائیگی کی جا ئے گی بلکہ پاکستان میں صنعت و حرفت، تجارت، صحت، تعلیم اور زراعت کے میدان میں گرانقدر ترقی اور خوشحالی کا آغاز ہوگا۔ انشأ اللہ، عظیم پاکستان کا عظیم الشان مستقبل، بہت جلدعوام کا مقدر ہوگا۔واضح رہے کہ ماضی میں داعی انصار عبدالقہارکے تحریر کردہ متعدد اہم نکات پر حکومت نے عمل کیا اور کئی سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور میں بھی شامل کیا ہے۔
© United Krachistan Movement| All rights reserved.