مقدمہ انصار عبدالقہار

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
بیشک، اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔(القرآن:سورۃ الرعد:۱۱)

شدت الفاظ

فقط شدت الفاظ پر نہ اٹک جانا، کہ زہر بھی ہے اور شہد بھی

دوا دارو بھی ہے، تریاق بھی ہے، مہد بھی ہے اور لحد بھی

حدیث دل بھی ہے، حکایت جان بھی ہے، کامل عہد بھی

شعلہ بغاوت بھی ہے،آتش انقلاب بھی ہے، عزم جہد بھی

آئین اور قانون

نہیں مانتا وہ آئین، جس کا منبع، اللہ کا قرآن نہیں

نہیں مانتا وہ قانون،جس کا ماخذ،محمدکا فرمان نہیں

آئین اور عوام

! آئین کی عظمت مقدم لیکن حرف آخر بھی تو نہیں

! آئین کی برکتیں اور نعمتیں عوام پر ظاہر بھی تو نہیں

شام غریباں اور عرش معٰلی کی زنجیریں

کیوں ایٹم بم کی طوفانی طاقت سے عوام کے پیٹ کی آگ بجھتی نہیں؟

کیوں سبز ہلالی پرچم کی قومی برکت سے غریب کی اولاد پلتی نہیں؟

کیوں نمازیوں، حافظوں، حاجیوں کی عبادات سے تاریکی چھٹتی نہیں؟

کیوں علماؤں کی دعاؤں سے، قوم کی قسمت پر جمی برف پگھلتی نہیں؟

کیوں مقبروں میں مدفن بزرگوں کی برکات سے شام غریباں ڈھلتی نہیں؟

کیوں مظلوموں کی آ ہ و بکاسے، عرش معٰلی کی زنجیریں ہلتی، لرزتی نہیں؟

عزم فولاد، عہد اتحاد

آؤ، متاثرین کراچی، سیاہ ماضی کو یاد کریں

آؤ،محبان وطن، پھردل ناشاد کوشاد کریں

آؤ،امن دریافت کریں، شانتی ایجاد کریں

آؤ،ازسرنو بنیاد رکھیں، پُر عزم انعقاد کریں

آؤ،عزم فولاد کریں،کراچی کو شادآباد کریں

آؤ،عہد اتحاد کریں، منظورقرارداد کریں

امن کا گہوارہ، امن کی آشا

امن کا گہوارہ، کبھی ایک شہر تھا کراچی

سکھ،ساکھ،سکون، خیر الخیر تھا کراچی

ماں کی محبت، باپ کی شفقت تھا کراچی

بہاروں کا نظارہ، مثل جنت تھا کراچی

دامن بہت وسیع، غیر نہیں، اپنا تھا کراچی

شانتی کا مرکز تھا، امن کی آشا تھا کراچی

امیروں کی شان، غریبوں کی بھاشا تھا کراچی

شہروں کا شہر تھا،بادشاہ تھا، شہنشاہ تھا کراچی

مہاجر نے کٹوایا مہاجر

آدم مہاجر، تمام انبیاؑ، صحابہؓ، اولیا مؒہاجر

ہندسے ہجرت کرکے جو آیا،کہلایا مہاجر

سندھ اورپنجاب نے گلے سے لگایا مہاجر

پٹھان اوربلوچ نے دل سے اپنایا مہاجر

افسوس کہ مہاجر کو ایک آنکھ نہ بھایا مہاجر

مہاجر کے نام پر،مہاجر نے کٹوایا مہاجر

کراچی کا ماضی

وہ دور آتشیں کبھی بھلایا تو نہ جا ئے گا

ماضی کو نسلوں سے چھپایا تونہ جائے گا

جب ہماری خوشی نہ بھائی تھی شیطاں کو

تب انسانیت کا دشمن بنا دیا تھاانساں کو

مارنے والا نہ جانتا تھا، کیوں مار رہا ہے

مرنے والا نہ جانتا تھا، کیوں مارا گیا ہے

بوڑھے کاندھوں پر اٹھوائے گئے تھے نوجواں

قبروں میں دفنا ئے گئے تھے، گھر کے آسماں

اللہ اور محمد کؐے پیغام اخوت کو ہم نے بھلایا تھا

صحابہؓ، اولیا کؒی دعوت محبت کو ہم نے جھٹلایا تھا

موقع غنیمت جان کر، شیطان نے سب کو بھٹکایا تھا

روح میں حلول ہو کر، شیطان نے سب کو پھسلا یا

مسلک، فرقہ، مذہب، سیاست، زبانوں پر لڑایا تھا

رنگوں پر، جھنڈوں پر، علاقوں، نعروں پر لڑایا تھا

شاہ لطیف و فرید کی نصیحت بھی ہم نے بھلا دی تھی

اقبا ل وجناح کی وصیت بھی ہم نے جھٹلا دی تھی

شعلہ نفرت کا جلا یا، وطن میں آگ لگا دی تھی

زندہ ضمیر کو کچلا، جنگلی وحشت کو خوب ہوا دی تھی

اللہ اکبر کہہ کربھائی کو بھائی، جب ذبح کرنے لگے تھے

کافر اور شہادت کی سندیں، سرعام عطا کرنے لگے تھے

جنازے عورتوں کے کاندھوں پر تب اُٹھنے لگے تھے

ننگے لاشے گندے نالوں میں پڑے سڑنے لگے تھے

ہاتھ، پاؤں، گردن، دھڑ ٹکڑوں میں تب کٹنے لگے تھے

انمول تحفے جب بوریوں میں بند، کھلے عام بٹنے لگے تھے

زبان کی نفرت سے، ہم بھڑکنے لگے تھے

دروازہ پر دستک سے، دل دھڑکنے لگے تھے

شعلے جب بھڑکے تو گھرگھر آگ پہنچ چکی تھی

ہر جانب دعائے ابراہیمی کی عجب دھوم مچی تھی

ہر سو ظالم مسکرا رہا تھا، داد شیطاں دے رہا تھا

بچہ و بوڑھا پکار رہا تھا، گھر گھر اذاں دے رہا تھا

کیوں جہنم بن گیا، میراگھر بسا بسایا

! یہ آگ کب بجھے گی، میرے خدایا

میری گمشدہ بہاروں کو، پھرسے نظارہ بنا دے

!اے خدا! میرے شہر کو امن کا گہوارہ بنا دے

کفارہ کیا ادا کریں، خدارا کچھ تو بتا دے

و اسطہ محمد ؐو علی ؑکا، خدارا، اب تو پناہ دے

امیر، غریب سب کا مقدر پھوٹ گیا تھا

کچھ وقت ہی نہیں، خدا بھی روٹھ گیا تھا

بے کفن تھے، ٹکڑے تھے، چیتھڑے تھے

شعلے تھے، دھماکے تھے،ہتھیارے تھے

امن کا گہوارہ،کبھی ایک شہر تھا کراچی

سکھ،ساکھ،سکون، خیر الخیر تھا کراچی

کبھی شاد آباد، عروس البلاد تھا کراچی

کبھی ایسا تو نہ تھا،میراکراچی میراکراچی

کراچی کا موجودہ حال

آج بھی تباہ حال، مکمل برباد ہے کرا چی

رنج و الم میں ڈوبا، سراپا فریاد ہے کراچی

ہر گام پر ملتے ہیں، یہاں خوف کے پہرے

ہر موڑ پر بستے ہیں، ڈاکو، قاتل اور لٹیرے

حافظ، حاجی،مفتی، عالم، پیرمرشد نورانی سے چہرے

پرروشنیوں کے شہر میں، اندھیرے ہی اندھیرے

مسجد، مندر، گرجے، اذانیں، عبادتیں

مع کینہ، تفرقہ،بغض، نفرتیں، عداوتیں

چوروں، ڈاکوؤں، قاتلوں کا توکچھ ذکر نہیں

شہر قائد کے رہبر،رہنماؤں کو بھی کچھ فکر نہیں

رہنماؤں کے ریوڑمیں صرف فرعون و قارون ملیں گے

باتوں کے دھنی مثل بقراط، سقراط، افلاطون ملیں گے

زخمی، بدحال، دل گرفتہ ہے، سراپا احتجاج ہے کراچی

حالت نزع ہے، قریب المرگ، لاعلاج ہے کراچی

یتیم، بیوہ، لاچار، لاوارث،بے بس،تنہا، قلاش ہے کراچی

روتی، بلکتی،تڑپتی، مچلتی، سسکتی، بے کفن لاش ہے کراچی

!مہکتی صبح، سہانی شام، چاندنی رات تھا میرا کراچی

!کبھی ایسا تو نہ تھا،میراکراچی، ہائے میراکراچی

کراچی کی حالت

ابلتا،بہتا، گلتا،سڑتا،دھنستا، ڈوبتا کراچی

لٹتا،اجڑتا، کٹتا،مرتا،جلتا،سلگتاکراچی

بھوکا،ترستا،پیاسا، بھٹکتا،بلکتا،سسکتا کراچی

تڑپتا،مچلتا،روتا،گڑگڑاتا،رینگتا،رگڑتا کراچی

بپھرا،بپھرا،ٹوٹتا،بکھرتا،بگڑتا،سنبھلتاکراچی

اندھیرا،اندھیرا، سمٹتا، سکڑتا، ملتا، بچھڑتاکراچی

کبھی ایسا تو نہ تھا،میراکراچی، ہائے میراکراچی

کبھی ایسا تو نہ تھا،میراکراچی، ہائے میراکراچی

مقبوضہ کراچی

قائد اعظم،بن قاسم، مائی کلاچی کا کراچی

کرچی کرچی،بستی بستی،ہستی ہستی کاکراچی

محرومہ، مرحومہ، ممنوعہ، مظلومہ اورمقتولہ کراچی

مسروقہ، متروکہ، مملوکہ،مفتوحہ اورمقبوضہ کراچی

منی پاکستان،پاک سر زمین،ارض پاکستان کراچی

قلب پاکستان، قلعہ اسلام، آئین قرآن کراچی

کراچی کا مستقبل

امن کا گہوارہ بنے گا، قائد کا کراچی

چمن کا مینار ہ بنے گا، قائد کا کراچی

لٹیروں کا قد غن بنے گا، قائد کا کراچی

قاتلوں کا مدفن بنے گا، قائد کا کراچی

نوید مسرت،صبح نو بنے گا، قائد کا کراچی

پیام مسرت، ازسر نو بسے گا، قائد کا کراچی

پھر سے روشنیوں کا شہر بنے گا، قائد کا کراچی

بہت جلد گرجتا ببر شیر بنے گا، قائد کا کراچی

عظیم کراچستان بنے گا، قائد کا کراچی

نظیرپاکستان بنے گا، قائد کا کراچی

آخر کراچستان کیوں؟

کراچی کی بستی بستی میں،کچھ نہیں صرف پاکستان بستا ہے

کراچی کو پاکستان سے ملایا، توصرف کراچستان بنتا ہے

کراچستان

اہل کراچی کے دکھوں کا مداوا،کراچستان

اہل کراچی کے سپنوں کا رکھوالا، کراچستان

ہر سہولت، ہر ضرورت کا ساماں،کراچستان

اہل کراچی کی عظمت کا نشاں،کراچستان

روشنیوں کا شہر، تعمیرنو،ازسرنوکراچستان

امن کا گہوارہ، تعمیرنو،ازسرنوکراچستان

پاکستان کی ترقی کا پہلا قدم،کراچستان

پاکستان کی سربلندی کا عزم، کراچستان

صرف اتحاد، ایمان، تنظیم، کراچستان

دنیا کے شہروں میں عظیم،کراچستان

الارض اللہ، انشاء اللہ، کراچستان

ماشا اللہ، بسم اللہ،کراچستان

اب کراچی بنے گا کراچستان

کراچستان بچائے گا پاکستان

فبای آلاء ربکما تکذبان کراچستان

بسم اللہ تا والناس، ترجمان پاکستان

پہلے کراچستان پھر پاکستان

پہلے کراچستان پھر پاکستان

رہبر ترقی اور کمال کراچستان

سایہ خدائے ذوالجلال پاکستان

منظور، منظور قرارداد کراچستان

منظور، منظور قرارداد کراچستان

کراچستان کیلئے درکار

کراچستان کیلئے، عزم غزنوی، شجاعت ایوبی، قوت حیدری درکارہے

دوسروں کیلئے جینا تو کمال، اپنے لئے بھی نہ جی سکے تو زندگی بیکار ہے

سکھ، ساکھ اور سکون

مانگ رہا ہے ہر انسان، سکھ، ساکھ اور سکون

آؤ بچائیں پاکستان، لے کر جان دے کر خون

نوشتہ دیوار ہے آج، گھروں سے نکلیں گے عوام

کٹیں گے ظالموں کے سر، جڑ سے بدلیں گے نظام

عوام کو سوچنے، بولنے، لکھنے دو، ورنہ ہر طرف سخت گھٹن بڑھ سکتی ہے

یہ اڑیل سرکش قوم ہے، پھندوں کو چوم چوم کے، پھانسی چڑھ سکتی ہے

کہیں ذہنوں میں سلگتی فریاد،آہ و فغاں نہ بن جائے

کہیں سینوں میں دہکتی آگ، آتش فشاں نہ بن جائے

مناسب ہوگا کہ بدمست نشہ میں غرق اشرافیہ سنبھل جائے

اغرایبہ کی کھوپڑی اُلٹ چکی ہے کہ تیر کمان سے نہ نکل جائے

پیارے وطن کی بہاریں، کہیں خزاں میں نہ ڈھل جائیں

خاکم بدہن، کہیں زرد سیاہ سرخ آندھیاں نہ چل جائیں

بنیادی ضروریات زندگی

بنیادی ضروریات زندگی کا تعین لازم ہے

عوامی مفادات کا احترام واجب لازم ہے

پاکستان کے عوام سے چند سوالات

ہم کب تک لیڈروں کامنحوس بوجھ، کاندھوں پر اُٹھائیں گے؟

ہم خود بھی تڑپیں گے،  اپنے معصوم بچوں کو بھی ترسائیں گے؟

کیا یونہی ظلم، ستم، زیادتیاں سہتے، گلتے، سڑ تے مر جائیں گے؟

لیکن اگرآج نہ اُٹھے تو کیا کل بھی اُٹھائے نہ جائیں گے؟

کیا پیاروں کو ترستا،تڑپتا، روتا، بلکتادنیا میں چھوڑ جائیں گے؟

کیا ہم بسترمرگ پر دَم آخر، خوداپنا،سامنا بھی کر پائیں گے؟

بندہ اور خدا

فقط دعاؤں، وظیفوں، ترانوں سے وقت کچھ بدلتا نہیں

جب تک بندہ خود کچھ نہ کرے، خدا بھی کچھ کرتا نہیں

© United Krachistan Movement| All rights reserved.