کراچستان کی تاریخ

نیشنل اکیڈمی آف پولیٹیکل اؤیرنیس کے نیوز لیٹر: اگست 2011 میں شائع کردہ مضمون میں، پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا، اصطلاحی اور انقلابی لفظ ”کراچستان“۔

عنوان: کراچی: منی پاکستان یا کراچستان

کراچی،جس کی آبادی 2 کروڑ سے زائد،ملک کی اعلیٰ اور بہترین صلاحیتوں کی حامل ہونے کے باوجود،وفاق کی بیوقوفیوں کے باعث مفلوج زندگی کا شکار ۔۔۔ شہر قائد، جہاں کے قاتلوں کے ہاتھوں میں لکیریں نہیں ہوتیں، جہاں نفرت اور تعصب سے بھر پور ہلاکت خیزیوں سے گزر کر قوم ایک خاموش انقلاب کی جانب رواں دواں ہے، جہاں مختلف زبان کے لوگوں نے ساتھ رہنا ضرورت اور مجبوری سمجھ لیا ہے اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کو اپنا قبلہ بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پٹھان، پنجابی، کشمیری، سندھی، بلوچی، حتیٰ کہ یہاں بسنے والے افغانی،برمی، بنگالی اور اردو قومیت کے حامل ایک تسبیح کے دانوں کی طرح اللہ اکبر، الحمد للہ، سبحان اللہ کی تاثیر سے اب شیعہ، سنی (اہلحدیث، دیو بندی، بریلوی) گلے ملنے لگے ہیں۔ اس کا ثبوت اس وقت ملتا ہے جب ایک دوسرے کی عبادت گاہوں پر نفرت پسندوں کے حملوں کے باوجود عوام ایک دوسرے پر حملے نہیں کرتے ہیں۔ وہ وقت اب دور نہیں کہ کراچی میں بسنے والے ایک نئی شمع جلائیں جو نفرت اور تعصب سے پاک ہو،یعنی جو کراچی میں ہے وہ کراچی کا ہے، کراچی اس کا ہے۔ عموماً کراچی کو عوامی اور سرکاری سطح پر”منی پاکستان“کہا جاتا ہے لہٰذاکراچی اور پاکستان کے باہمی امتزاج سے کراچی کا نام، اس کی وسعت کے عین مطابق”کراچستان“رکھنا چاہئے کہ کراچستان، نصف جہاں

چمن چمن کے گل، میرے شہر میں

!میں اسے چمنستاں، کیوں نہ کہوں

گلوں کے ساتھ ہیں،کانٹے ہزار

!میں اسے چیستاں،کیوں نہ کہوں

کراچی کو کہتے ہیں ، منی پاکستان

!میں اسے کراچستاں، کیوں نہ کہوں

لیڈر پنجاب کا ہو، سرحد کا ہو، بلو چستان کا ہو یا سندھ کا ۔۔۔ سیاسی گند پھیلا نے کراچی کا ہی رخ کرتا ہے۔ یہاں اگر کوئی جماعت لاکھ بھر افراد کا مجمع لگا لیتی ہے تو فوراً دعو یٰ کر دیتی ہے کہ اس نے کراچی فتح کر لیا ہے جبکہ اس کا مطلب واضح ہے کہ یہ مجمع کل آبادی کا آدھا فیصد ہے اور 99.5 فیصد آبادی نے اس مجمع / ریلی/ جلسہ /جلوس میں جانا گوارا ہی نہیں کیا ہے۔ کیا ایسی کوئی صورتحال کسی جماعت کی مقبولیت کی مثال بن سکتی ہے؟ لیکن متواتر ناکامیوں نے ایک نئی نسل کا وجود ثابت کیا ہے، اسے کوئی بھی نام دیں وہ نئی قوم، وہ نئی نسل کراچی کی ہے،جو نئے پاکستان کی نئی اساس بن کر ابھر رہی ہے۔ لیڈروں کے لاکھ اکسانے پر اب ان کی کسی تحریک میں حصہ لینے پر آمادہ نہیں، جس کے باعث سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ کراچی، جہاں ”اہلیان کراچی“ کو اپنا ہوش نہیں لیکن ان کے نام سے اتنے پوسٹر اور بینر سڑکوں پر لگائے جاتے ہیں کہ کسی عقل مند کو ایک ”تحریک اہلیان کراچی“ بنا لینا چاہئے۔ علاوہ ازیں، محرومیت کے احساس سے سارا شہر سلگتا رہا ہے، چنگاریاں انگارے اور دھواں۔۔۔ مگر بھولے ماہرین کبھی نہ جان پائے کہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟

© United Krachistan Movement| All rights reserved.