یونیورسٹی آف کراچی: اوپن چارج شیٹ

یونیورسٹی آف کراچی کی امتحانی بدعنوانیوں پر گیارہ سالہ رپورٹ

جامعہ کراچی کا بد عنوانیوں کے ضمن میں تحریری اعتراف نامہ

The Wordings of the Letter of the Controller of Examinations, University of Karachi, Pakistan. Reference No. 1145 Dated 23-07-2018.

Following the Legal Procedure is More Important than Giving Favour to
Guarantee Transparency.

حکمت کار اور شفافیت کے ضمن میں فلسفہ اور یونیورسٹی آف کراچی کا قانون، قانونی طریقہ

واضح مطلب ہے کہ یونیورسٹی آف کراچی اپنے تخلیق کردہ نام نہاد خود ساختہ لعنتی قوانین پر عملدرآمد کرتی ہے، عالمی اور کائناتی معیارشفافیت پر لعنت بھیجتی ہے۔

یونیورسٹی آف کراچی کو امتحانی وسیع پیمانہ پر بدعنوانیوں پر جاری رپورٹ ”اوپن چارج شیٹ“

انصار عبدالقہار کی جانب سے وائس چانسلر یونیورسٹی آف کراچی اور کنٹرولر آف ایگزامینیشنز، یونیورسٹی آف کراچی کو مؤرخہ: 21دسمبر2023کو، ایک خط کے ساتھ منسلک بہتر(72) صفحات پر مشتمل رپورٹ”اوپن چارج شیٹ“دستی پیش کی گئی تھی،جس کا مقصد وسیع تر قومی اور تعلیمی مفادات میں،یونیورسٹی آف کراچی میں جاری و ساری بدترین امتحاناتی صورتحال اور ابتر امتحاناتی معاملات کومثبت انداز میں حل کرنا تھا، جو موجودہ حالات میں اشد ناگزیر ہے لیکن وائس چانسلر یونیورسٹی آف کراچی اورکنٹرولر آف ایگزامینیشنز، یونیورسٹی آف کراچی نے مذکورہ رپورٹ”اوپن چارج شیٹ“ کی وصولیابی کی تصدیق کی اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی عملی اقدام کیا۔”اوپن چارج شیٹ“ کی بابت خواجہ محمد آصف (وزیر دفاع)، رانا تنویر حسین (وفاقی وزیر تعلیم)، راجہ پرویز اشرف (اسپیکر قومی اسمبلی) کو بھی تحریری طور پر مطلع کیاگیا تھا۔پاکستان کے تعلیمی اور امتحانی معیار کو بلند کرنے کیلئے مذکورہ ”اوپن چارج شیٹ“ ویب سائیٹ پر جلد شائع کر دی جائے گی۔

اوپن چارج شیٹ کی تیاری کے وقت یونیورسٹی آف کراچی کی ویب سائیٹ کے درج ذیل لنک پر 2006سے2023تک کے امتحانی نتائج کا ریکارڈ دستیاب تھا۔

فیصلہ کیا گیا کہ صرف گیارہ سالہ ریکارڈ کی بنیاد پر رپورٹ،”اوپن چارج شیٹ“ مرتب کی جائے لہٰذا 2012سے2022تک کے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر وسیع رپورٹ تیار کی گئی۔جس میں کل 1002امتحانات میں 970001 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔جن میں سے مجموعی طور پر 30.49فیصد پاس اور 69.51فیصد فیل ہوئے۔رپورٹ کے مطابق کالج سے امتحان دینے والے بی اے، بی ایس سی اور بی کام کے طلبہ و طالبات کے ساتھ، سنگین امتیازی سلوک برتا گیا تھا۔یونیورسٹی آف کراچی کے وائس چانسلر، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز نے اوپن چارج شیٹ کی دستی وصولیابی کے بعد، فوری طور پر جو قابل عمل، عین متوقع کارنامہ سرانجام دیا، وہ یونیورسٹی آف کراچی کی ویب سائیٹ کے مذکورہ لنک سے 2006سے 2022تک کے امتحانات کے نتائج کو ڈیلیٹ کرنا تھا، جو کر دیا گیا اور اب صرف 2023سے ابتک کے امتحانات کے نتائج دستیاب ہیں۔اس کا واضح مطلب کہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف کراچی اور کنٹرولر آف ایگزامینیشنز یونیورسٹی آف کراچی نے مسائل کی جانب سے اپنی اپنی آنکھیں بند کر لیں اور خود کو یقین دلادیا کہ طوفان ٹل گیا ہے۔

تاہم، اوپن چارج شیٹ کے بعد،موجودہ دستیاب امتحانی ریکارڈز کے مطابق، کچھ بہتری لائی گئی ہے یعنی 2023سے2024کے مطابق اور 2025کے مطابق بی اے، بی ایس سی اور بی کام کے طلبہ و طالبات کے ساتھ جو امتحانی نتائج میں مثبت تبدیلی کی گئی ہیں، جو بلا شبہ، اوپن چارج شیٹ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔لیکن سنگین سوالات پھر بھی اپنی جگہ پرموجود ہ ہیں، جویونیورسٹی آف کراچی کا پیچھا کرتے رہیں گے تاوقتیکہ، ظالم اور بدعنوانوں کا قلع قمع ہو سکے اور مظلوم طلبہ اور طالبات کو انصاف فراہم کیاجا سکے۔

مزید برآں، یونیورسٹی آف کراچی کا بدترین تعصب، نفرت یا عداوت، کالجوں سے امتحانات دینے والے طلبا اور طالبات کے ساتھ، خاص طور پر شعبہ کامرس کے طلبا و طالبات کے ساتھ بہت واضح اور نمایاں ہے۔ ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس سمیت بی ایس فیزیو تھراپی، ایم ایڈ، بی اے ایل ایل بی، بی اے لا، بی ایڈ، بی پی ایڈ، ایم ایس سی کے طلبا و طالبات کی امتحانات میں مجموعی 60 فیصد سے لیکر89 فیصد تک نمبروں سے کامیابیاں اور کامرانیاں، بی کام کے طلبا و طالبات کے مجموعی 20 فیصد کے تناظر میں بہت زیادہ مشکوک اور مشتعل کر دینے والی ہیں۔ یونیورسٹی آف کراچی طلبا و طالبات کی مجموعی 70 فیصد تعداد کو فیل کرکے، کیا کچھ ثابت کرنا چاہتی ہے:کیا طلبا و طالبات تعلیم میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتے ہیں؟ا اساتذہ طلبا و طالبات کو تعلیم دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں؟؟ کیا یونیورسٹی آف کراچی نے طلبا و طالبات کی اکثریت کو فیل کرکے، اپنی مستقل آمدنی اور کمائی کا منحوس ذریعہ بنا رکھا ہے؟؟؟

کیا کامرس کی تعلیم بہت کٹھن، مشکل اور دشوارگذار ہے کہ طلبا و طالبات کیلئے، امتحانات کو پاس کرنا پل صراط بن گیا ہے اور کیا ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس سمیت بی ایس فیزیو تھراپی، ایم ایڈ، بی اے ایل ایل بی، بی اے لا، بی ایڈ، بی پی ایڈ، ایم ایس سی سمیت تمام اقسام کے ڈپلوماز کی تعلیم بہت آسان ہے کہ طلبا و طالبات کیلئے، امتحانات میں کامیابی پہل دوج، گلی ڈنڈے، پکڑم پکڑائی کا کھیل تماشہ بن گئی ہے؟

کیا کامرس کے طلبا و طالبات بہت نالائق، احمق، کوڑھ مغز ہیں کہ مجموعی بیس(20) فیصد سے آگے کامیابی ممکن ہی نہیں۔ کیا ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس سمیت بی ایس فیزیو تھراپی، ایم ایڈ، بی اے ایل ایل بی، بی اے لا، بی ایڈ، بی پی ایڈ، ایم ایس سی سمیت تمام اقسام کے ڈپلوماز بشمول دیگر شعبہ جات کے طلبا و طالبات بہت ذہین، عقلمند، لائق، فائق اور قابل ہیں کہ گرانقدر کامیابیاں ان کے قدموں میں قدم بوسیاں کرکے لوٹ پوٹ ہو جاتی ہیں؟

واضح رہے کہ یونیورسٹی آف کراچی کی ویب سائیٹ پر دستیاب گیارہ سالہ) (2022-2012 ریکارڈز کے مطابق، کل 1002 امتحانات منعقد کئے گئے، جن میں مجموعی طور پر9,70,001 رجسٹرڈطلبا و طالبات میں سے، 9,19,876 طلبا و طالبات نے شمولیت حاصل کی، جن میں سے 2,80,422 یعنی صرف30.49 فیصدطلبا و طالبات کو پاس قرار دیا گیا، اور 6,39,454یعنی69.51 فیصد طلبا و طالبات کو فیل قرار دیا گیا۔ کیا درج بالا اعداد و شمار یونیورسٹی آف کراچی سمیت تمام نام نہاد تعلیمی اداروں اور نام نہاد اساتذہ کی نام نہاد حسن کارکردگیوں پر سوالیہ نشان نہیں؟ کیا جس طرح لالچی ڈاکٹر چاہتا ہے کہ مریض اس کے کلینک کے چکر لگاتے رہیں، جس طرح مفاد پرست وکیل کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے کلائنٹس مسلسل مقدمہ بازیوں میں الجھے رہیں۔ جس طرح جعلی پیر مولوی کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے آستانہ پر سوالیوں کا اجتماع لگا رہے۔ بالکل اسی طرح، من پسندمخصوص شعبہ جات کے طلبا و طالبات کی جھولیوں میں کامیابیاں اور کامرانیاں ڈال کر، بد نصیب طلبا و طالبات کی کثیر تعداد کو فیل کرکے، یونیورسٹی آف کراچی نے اپنا ”دھندہ “ بنا رکھا ہے اور یہی "پاس اور فیل کا گورکھ دھندہ "ہے۔آخر، پاکستان کی عظیم ترین درسگاہ، یونیورسٹی آف کراچی میں نمبروں کی سٹہ بازی، گریڈز کی دکانداری، پوزیشنز کی چوربازاری اور ڈگریوں کی سوداگری کب تک چلتی رہے گی؟کیا پاکستان میں انقلاب کا آغاز یونیورسٹی آف کراچی سے جنم لے گا؟

: انصار عبدالقہار نے یونیورسٹی آف کراچی سے طلبہ و طالبات کے مفادمیں درج ذیل د و (2) مطالبہ کیے تھے

جن امتحانات کے نتائج، یونیورسٹی آف کراچی کی ویب سائیٹ پر2006سے2022 تک دستیاب ہیں، ان کی بنیاد پرگیارہ سالہ رپورٹ:”اوپن چارج شیٹ“ تیار کی گئی ہے لیکن جن امتحانات کے نتائج، یونیورسٹی آف کراچی کے قیام سے ابتک دستیاب نہیں، وہ فوری طور پر بلا تاخیر مطلوب ہیں تاکہ قوم اور تعلیم کے وسیع تر مفادات نیز یونیورسٹی آف کراچی کے نظام کی درستگی کیلئے ایک مکمل اور جامع رپورٹ مرتب کی جا سکے لہٰذا یونیورسٹی آف کراچی فوری طور پر بلا تاخیر، تیس(30) دن کے اندر، اپنے قیام سے ابتک کا مکمل امتحانی ریکارڈ فراہم کرے تاکہ جامع رپورٹ مرتب کرکے، طلبا اور طالبات کو پاس اور فیل کے گورکھ دھندے سے نجات دلائی جا سکے۔

تمام طلبا اور طالبات کو، جنہوں نے مختلف کالجوں کی جانب سے ریگولرز یا پرائیوٹ حیثیت سے، یونیورسٹی آف کراچی کے تحت آرٹس، سائنس اور کامرس کے امتحانات دیئے اور یونیورسٹی آف کراچی نے اپنی بدترین تعلیم دشمن پالیسی کے تحت بڑی تعداد میں مذکورہ طلبا اور طالبات کو جان بوجھ کر فیل کیا، ان کے معاملات کوبلا تاخیرتیس(30) دن کے اندر، ان کے مطالبہ پردرست کرکے، نئے مارکس سرٹیفیکٹس اور ڈگریاں جاری کرے، تمام متاثرہ طلبا اور طالبات سمیت ان کے والدین سے انفرادی اور اجتماعی تحریری معافی مانگی جائے نیز اگر متاثرہ طلبا اور طالبات سمیت ان کے والدین، یونیورسٹی آف کراچی کی جانب سے ان کے قیمتی تعلیمی وقت کے ضیاع پر مالی معاوضہ طلب کیا جائے تو یونیورسٹی آف کراچی پر لازم ہے کہ انہیں ان کے مطالبہ کے مطابق مالی معاوضہ ادا کیا جائے۔

نوٹ: یونیورسٹی آف کراچی نے انصار عبدالقہار کے دونوں مطالبات تسلیم نہیں کیے ہیں۔

اوپن چارج شیٹ میں، واضح طور پر لکھا گیا تھا کہاگر یونیورسٹی آف کراچی کے ارباب اختیارات اور اقتدار سمیت دیگر تمام افراد اور ادارہ کسی بھی وجہ سے رپورٹ: اوپن چارج شیٹ سے متفق نہیں ہوں تو مذکورہ رپورٹ کے اجراء کے بعد تیس (30) کے اندر متعلقہ عدالت سے قانون کے مطابق رجوع کر سکتے ہیں تاہم بعد از مدت کوئی دعویٰ قطعی قابل قبول نہیں ہو گا۔ تاہم، ایسا نہیں کیا گیا، ماسوائے یونیورسٹی آف کراچی کی ویب سائیٹ کے مذکورہ لنک سے 2006سے 2022تک کے امتحانات کے نتائج کو ڈیلیٹ کردیا گیا تھا۔

نوٹ: یونیورسٹی آف کراچی نے انصار عبدالقہار پر کسی بھی قسم کا کوئی مقدمہ کسی بھی عدالت میں دائر نہیں کیا ہے۔

وسیع تر قومی اور تعلیمی مفادات کیلئے یونیورسٹی آف کراچی کے،قیام سے ابتک مکمل احتساب ناگزیر ہو چکا ہے، پاس اور فیل کا گورکھ دھندہ،نمبروں کی سٹہ بازی اورفیصد کی سوداگری کا ذمہ دارکو ن اور مجرم کون؟ زبان خلق اور نقارہ خداکے عنوان سے ”جامعہ کراچی بی کام کے امتحانات میں بے قاعدگیوں کے انکشافات“ سمیت”یونیورسٹی آف کراچی کے امتحانی گورکھ دھندے“،ویب سائیٹ پر دستیاب گیارہ (2022-2012)سالہ امتحانی ریکارڈز پر مشتمل، چشم کشا شرمناک حقائق پر مبنی، اعداد و شمار کی بنیاد پر،غیر جانبدارانہ تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ: اوپن چارج شیٹ، بشمول 2023-2025 کے امتحانی نتائج کے ساتھ جلد ویب سائیٹ پر جاری کر دی جائے گی۔مکمل 14سالہ (2025-2012) امتحانی نتائج کے اعداد و شمار کی بنیاد پر1237امتحانات اور 11،17،824طلبہ و طالبات سے متعلق، 84 صفحات پر مشتمل ڈیٹا ایک جامع رپورٹ کیلئے مرتب کیا جا چکا ہے جو رپورٹ:”اوپن چارج شیٹ“ سے الگ ہے۔ یونیورسٹی آف کراچی کے ذمہ داران کے تعین کیلئے، اس ضمن میں، رپورٹ:”اوپن چارج شیٹ“ میں لکھے گئے اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیاجائے گا۔

وسیع تر قومی اور تعلیمی مفادات کیلئے یونیورسٹی آف کراچی کے،قیام سے ابتک مکمل احتساب ناگزیر ہو چکا ہے، پاس اور فیل کا گورکھ دھندہ،نمبروں کی سٹہ بازی اورفیصد کی سوداگری کا ذمہ دارکو ن اور مجرم کون؟ زبان خلق اور نقارہ خداکے عنوان سے ”جامعہ کراچی بی کام کے امتحانات میں بے قاعدگیوں کے انکشافات“ سمیت”یونیورسٹی آف کراچی کے امتحانی گورکھ دھندے“،ویب سائیٹ پر دستیاب گیارہ (2022-2012)سالہ امتحانی ریکارڈز پر مشتمل، چشم کشا شرمناک حقائق پر مبنی، اعداد و شمار کی بنیاد پر،غیر جانبدارانہ تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ: اوپن چارج شیٹ، بشمول 2023-2025 کے امتحانی نتائج کے ساتھ جلد ویب سائیٹ پر جاری کر دی جائے گی۔مکمل 14سالہ (2025-2012) امتحانی نتائج کے اعداد و شمار کی بنیاد پر1237امتحانات اور 11،17،824طلبہ و طالبات سے متعلق، 84 صفحات پر مشتمل ڈیٹا ایک جامع رپورٹ کیلئے مرتب کیا جا چکا ہے جو رپورٹ:”اوپن چارج شیٹ“ سے الگ ہے۔ یونیورسٹی آف کراچی کے ذمہ داران کے تعین کیلئے، اس ضمن میں، رپورٹ:”اوپن چارج شیٹ“ میں لکھے گئے اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیاجائے گا۔

: گیارہ سالہ(2022-2012) دستیاب امتحانی ریکارڈز کے مطابق حقائق درج ذیل ہیں

© United Krachistan Movement| All rights reserved.