میں، انصار عبدالقہار،کنو ینر یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ،ابتدائی طورپرعظیم شہر کراچی سے وابستہ اُن تمام تبدیلی پسند، اصلاحات پسند اور انقلاب پسند عوام کو، جو پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں مقیم ہیں کو،دعوت دیتا ہوں کہ عظیم شہر کراچی کے وسیع ترمفادات کی تکمیل کیلئے، پاکستان کے رجسٹرڈ ووٹرز کی سپریم نیشنل موومنٹ یعنی یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ میں شمولیت اختیار کریں۔جب تک عظیم شہر کراچی کا قبلہ درست نہیں ہوگا، پاکستان کبھی بھی درست سمت میں ترقی کا سفرنہیں کر سکے گا۔ دنیا میں پاکستان کے بعد وجود میں آنے والے ممالک آج آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور پاکستان کی سڑکوں، گلیوں میں خاک، دھول، مٹی، دھند،گرد و غبار کا ڈیرہ ہے جبکہ عظیم شہرکراچی کو منظم سازش کے تحت ”سندھی گوٹھ“ بنا دیا گیا ہے۔قیام پاکستان سے لیکر، آج تک، عظیم شہرکراچی سمیت مکمل پاکستان، اشرافیہ کے مضبوط ہاتھوں یرغمال بنا ہواہے نیز تمام حکومتوں نے، اغرابیہ سے ترقی و خوشحالی اور فلاح و بہبود کے نام پر صرف وعدے کرکے، ووٹ حاصل کئے ہیں لیکن اپنے وعدوں پرکبھی عملدرآمد نہیں کیا ہے لٰہذا آج تک کوئی بھی خواب وعدوں کے مطابق شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔ عوام کی حالت اور پاکستان کے حالات تباہی اور بربادی کا خوفناک نظارہ پیش کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم قرضوں کے بھاری بوجھ تلے گروی رکھی جا چکی ہے۔قومی رہنماؤں کو عوام کی کوئی فکر اور پرواہ نہیں لیکن المیہ تو یہ بھی ہے کہ خودعوام کو بھی اپنی کوئی فکر اور پرواہ نہیں ہے۔ پاکستان کے ننانوے(99) فیصدعوام خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اور صرف ایک(01) فیصد عوام جاگ رہے ہیں، اور پاکستان کی تباہی اور بربادی کادلسوز نظارہ دیکھ رہے ہیں۔ تاہم، فی الوقت مکمل پاکستان کیلئے جدوجہد ممکن نہیں لٰہذا، ابتدائی طور پر پاکستان کے حالات سدھارنے کیلئے، ”پہلے تعمیر کراچستان، پھر تکمیل پاکستان“کا آغاز کیا جائے گا۔مختصراً،”پہلے کراچستان، پھر پاکستان“ لکھا اور پکارا جائے گا۔
: حضرت سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ علیہ سلام نے فرمایا
تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا اس کی رعیت کا (حاکم سے مراد منتظم،نگران کار اور محافظ ہے) پھر جو کوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ اس کی رعیت کا کہ اس نے اپنی رعیت کے حق ادا کئے، ان کی جان و مال کی حفاظت کی یا نہیں اور آدمی حاکم ہے اپنے گھر والوں کا اس سے سوال ہو گا ان کا اور عورت حاکم ہے اپنے خاوند کے گھر کی اور بچوں کی اس سے ان کا سوال ہو گا اور غلام حاکم ہے اپنے مالک کے مال کا اس سے اس کا سوال ہو گا۔ غرض یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک شخص حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک سے سوال ہو گا اس کی رعیت کا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 4724)
پاکستان میں نظام حکومت اور نظام انتخابات انتہائی ناکامیاب ہیں۔عوام کی انتخابی نظام سے مایوسی کی خطرناک انتہا، پاکستان کے استحکام کیلئے خطرناک ہے۔پاکستان کے مخصوص خاندان ملکی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ان کا کوئی نہ کوئی فرد ہر دور میں اقتدار میں رہتا ہے، چہرے بدل کر انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔سیاسی اور مذہبی جماعتیں کارکنوں اور عوام کی میراث اور وراثت ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں ان کو خاندانی میراث اور وراثت سمجھ لیا گیا ہے، کہ سربراہ کی بیویوں اور اولاد کے سوا کوئی بھی جماعت میں لائق اور قابل نہیں۔سب کارکنان اور عہدیداران کو”احمقوں کا ٹولہ“ سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی نظام کی مسلسل ناکامیوں نے سیاست اور سیاستدانوں کو گالی بنا دیا ہے۔قوم کو مضبوط عوامی سیاسی تنظیم کی ضرورت ہے۔وفاق، صوبوں اور اضلاع میں اختیارات کی منصفانہ تقسیم لازم ہے۔مسائل کا حل، صدارتی نظام اور چھوٹے صوبے ہیں۔تاہم، زیادہ مناسب ہو گا کہ پاکستان میں غیر جانبدارانہ بنیاد پر پارلیمانی نظام یا صدراتی نظام کیلئے ریفرنڈم کرایا جائے۔
© United Krachistan Movement| All rights reserved.