پاکستان میں نئی تنظیم،یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کراچستان، پاکستان سمیت دنیا میں امن، وقار اور مساوات کے قیام کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی اقدار کو فروغ دینے کیلئے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 17: (فریڈم آف ایسوسی ایشن) کے تحت تشکیل دی گئی ہے تاکہ پاکستانی قوم درج بالا سوال کا قابل قدر اور عملی جواب دینے کے قابل بن سکے۔
:یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے قیام کے اسباب، پاکستان کے مجموعی سیاسی، معاشی، سماجی اور تعلیمی تناظرمیں، جن کے منفی اور مثبت اثرات کراچی پر بھی مرتب ہوتے ہیں، درج ذیل ہیں
پہلا: کراچی میں سیاسی جماعتوں کی مسلسل ناکامیابیاں
جیسا کہ پاکستان کی تمام سابقہ اور موجودہ مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ سمیت پاکستان کی سابقہ اور موجودہ سیاسی اور مذہبی قیادت مع ان کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں بشمول تمام سابقہ اور موجودہ مختلف مکاتب فکر کے تمام علمائے دین، باوجود مسلسل کوشش اور جدوجہدکے، پاکستان کے تمام سابقہ اور موجودہ سماجی، سیاسی،معاشی، تعلیمی، عدالتی اور مذہبی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔مزید برآں، آیندہ مستقبل میں بھی درج بالا اداروں اور شخصیات سے جملہ مذکورہ مسائل کے حل ہونے کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں نسلیں بدل گئیں، چہرے تبدیل ہو گئے۔ پاکستان کے خزانے خالی ہو گئے، پاکستان گروی رکھ دیا گیا اور پاکستان کے عوام مقروض ہو گئے لیکن سیاسی اور مذہبی رہنما مالدار اورجاگیر دار ہو گئے۔سیاسی اور مذہبی رہنما ؤں کے مقابلہ میں سرکاری ملازمین کی دوران ملازمت مالی منفعت اور بدعنوانیوں کی کوئی اہمیت اور وقعت نہیں، وہ قابل معافی ہیں۔ پاکستان کے پسماندہ عوام کے ووٹوں سے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں پر قابض سیاسی اور مذہبی خاندان نسل در نسل، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر، پاکستان اور عوام کا استحصال کرکے، مسلسل لوٹ رہے ہیں۔ ان سیاسی اور مذہبی پارٹیوں میں شامل دیگر قابل عہدیداران اور جفاکش کارکن کبھی بھی مذکورہ بڑی پارٹیوں کے چیئرمین، صدر یا امیر نہیں بن سکتے ہیں۔
دوسرا : کراچی میں میئرشپ کی مسلسل ناکامیابیاں
جیسا کہ جناب عبدالستار افغانی، جناب فاروق ستار، جناب نعمت اللہ خان،جناب سید مصطٰفی کمال اور جناب وسیم اختر کی میئر شپ کی کارکردگیاں، شہر کراچی کے عوام مشاہدہ کر چکے ہیں جبکہ جناب مرتضٰی وہاب کی میئر شپ کا دور ابھی جاری ہے۔سابقہ اور موجودہ میئرشپ کی کارکردگیوں کے ضمن میں شہر کراچی کے عوام کی رائے معلوم کرنے کیلئے، کسی بھی سروے اور ریفرنڈم کی قطعی ضرورت نہیں کیونکہ شہرکراچی کا ماضی اورحال نوشتہ دیوار ہے اور شہر کراچی کے ہر باشندے کے مایوسی میں غرق چہرے پر رقم ہے۔شہر کراچی میں، اگر سب کچھ ٹھیک ہوتا تو، کچھ کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن کراچی شہر کی متعدد میئرشپ کی مسلسل اور متواتر کوششوں کے باوجود،کراچی کی پسماندگیاں اور سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی اور ناکامیابیاں، یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے قیام کا بنیادی محرک اور سبب بنی ہیں۔
تیسرا : عوام کی غفلت، بے حسی، لا پرواہی اور غیر ذمہ داری
جیسا کہ پاکستان کے مجموعی حالات کی ذمہ داری صرف عوام پر عائد ہوتی ہے کیونکہ عوام تمام معاملات کے ضمن میں لاپرواہ، بے حس، غافل اور غیر ذمہ دار ثابت ہورہے ہیں۔ عوام کی اکثریت نے اپنے اختیارات اور ذمہ داریاں بذریعہ ووٹ صرف سیاستدانوں، علمائے دین اور اسٹیبلشمنٹ کے سپرد کر دی ہیں اور خواب غفلت میں سو اور کھو گئے ہیں۔عوام کا ایک محدود طبقہ موجودہ عدم مساواتی سماجی، سیاسی،معاشی اور تعلیمی نظام کی جگہ مساوات پر مبنی اوراسلامی اقدار کے عین مطابق نئے سماجی، سیاسی معاشی اور تعلیمی نظام کا فوری نفاذ چاہتا ہے لیکن وہ بھی عملی طور پر کچھ نہیں کر پا رہا ہے، صرف کسی مسیحا کا منتظر رہتا ہے۔عوام روزانہ اپنے موبائل پر انقلاب برپا کرتے ہیں اور مطمئن ہو کر، آرام کی نیند سو جاتے ہیں۔
چوتھا : پاکستان کی بدترین صورتحال
جیسا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستا ن کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق ابتک لاتعداد سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں۔ رجسٹرڈ جماعتوں میں سے کچھ الیکشن میں کامیاب ہوکر، پاکستان کی سیاست میں اپنا عملی کردار (حزب اقتدار اور حزب اختلاف)ادا کرتی ہیں جبکہ متعددسیاسی اور مذہبی جماعتیں عملی طور پر غیر فعال ہیں۔ کثیر تعداد میں سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں، کسی بھی مزید سیاسی جماعت کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں تھی۔ قیام پاکستان سے آج تک، کثیر تعداد میں سیاسی جماعتوں کی موجودگی کے باوجود، پاکستان اور عوام کی حالت بدترین خراب ہے۔سیاسی اور فوجی حکومتوں کے باوجود،پاکستان کی مجموعی سیاسی، معاشی اور معاشرتی صورتحال،دن بدن تباہی اور بربادی کی جانب گامزن ہے۔پاکستان ایک مقروض ملک ہے اور پاکستانی قوم مقروض اور گروی قوم ہے۔کوئی بھی نہیں جانتا کہ قومی مقروضیت کی موجودہ تباہ حال صورت میں مذہبی تہوار اور ذاتی تقریبات پر بیدریغ اصراف اللہ تعالیٰ کے غیض و غیضب کو کس طرح للکارتا ہوگا؟ مزیدبرآں،کرکٹ، کھیل، تماشوں اور نام نہاد ثقافت کے نام پرتہوار اور تقریبات پر کروڑوں روپوں کی عیش اور عیاشیاں، ہماری مجموعی قومی بے حسی اور بے غیرتی کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان، ایک ایٹمی ملک ہے لیکن قوم اندھیروں میں بھٹک رہی ہے، بھوک و افلاس کا شکار ہے، بیماریوں کے علاج معالجہ سے قاصر ہے، بیروزگاری میں مبتلا ہے، تعلیم سمیت زندگی کی بنیادی ضروریات اور سہولیات سے محروم ہے۔ پاکستان کی افواج اور انٹیلی جنس ادارے، دنیا میں بہترین تسلیم کئے جاتے ہیں لیکن کوئی ہفتہ نہیں گزرتا کہ قوم دھماکوں، لاشوں اور تباہی و بربادی کی خبریں نہیں سنتی ہو۔ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو کر قتل و غارتگری اور خودکشیوں پر آمادہ ہو رہی ہے۔نوجوان نسل نشہ کی لعنت میں مبتلا ہو چکی ہے۔
پانچواں : پاکستان اور عوام کی مجموعی پسماندگیاں
جیسا کہ پاکستان اور عوام مجموعی پسماندگیوں میں مبتلا ہیں مثلاًمعاشی پسماندگی،صنعتی پسماندگی، زراعتی پسماندگی، اخلاقی پسماندگی،سماجی پسماندگی، سیاسی پسماندگی،تعلیمی پسماندگی، صحت و طبی پسماندگی، دفاعی پسماندگی،عدالتی پسماندگی، خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی کی پسماندگی۔ قومی المیہ ہے کہ لاتعداد خاندان ارب پتی اور کھرب پتی ہیں جبکہ عوام کی اکثریت کنگال اور قلاش ہے۔عوام روزمرہ کی بنیادی ضروریات کیلئے ترستے ہیں۔پاکستان کے ایوان اقتدار سمیت قدرتی وسائل پر طاقتور اشرافیہ قابض ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کے حال اور مستقبل پر بھی طاقتور اشرافیہ قابض ہے۔اشرافیہ نے اغرابیہ کے دل اور دماغ پر قبضہ جما رکھا ہے۔اشرافیہ کیلئے پاکستان جنت اور اغرابیہ کیلئے پاکستان جہنم بن گیا ہے۔اشرافیہ اپنی قائم کردہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ذریعہ نسل در نسل عوام پر قابض اور غاصب رہنا چاہتی ہے۔ عوام کو مربوط اور مضبوط حکمت عملی کے ذریعہ زندگی کی ضروریات کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر، پھنسا کر رکھ دیا ہے۔غریب والدین اپنی معصوم اولاد کو قتل کرکے خود کشیوں پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔عوام علاج معالجہ سے محروم ہیں، پیٹ بھر کھانے سے محروم ہیں، تعلیم سے محروم ہیں، بجلی اور گیس کے ماہانہ بلوں کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔ کل تک جو خیرات دیتے تھے، آج خود بھکاری بن گئے ہیں۔
چھٹا: یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، اصلاحاتی اور انقلابی تحریک
جیسا کہ قوم اور وطن کیلئے خدمت کا حقیقی جذبہ اگر دل اور دماغ میں موجزن ہو توحکومت اور اقتدار کے بغیر بھی قوم اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے جدوجہد ممکن ہے۔ حقیقی جذبہ پر ایمان اور یقین کے باعث یونائٹیڈ کراچستان موومنٹ کاقیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یونائیٹڈکراچستان موومنٹ، ایک ”اصلاحاتی اور انقلابی تحریک“ ہے جو، حکومت اور عوامی منتخب نمایندگان کی جانب سے، مسلسل عوامی مینڈیٹ کے مطابق عملدرآمد نہیں کرنے کے باعث، سخت رد عمل کے طور پر،بلا امتیاز کراچستان کے متحدہ شہریوں کے سماجی،معاشی، تعلیمی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کیلئے معرض وجود میں لائی گئی ہے۔یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کے پاس قابل عمل مخصوص حکمت عملی موجود ہے، جس پر عملدرآمد سے کراچی سمیت پاکستان میں بنیادی اور مؤثر تبدیلی، اصلاحات اور انقلاب ممکن ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر انقلاب، خونی انقلاب ہو۔امید کی جاتی ہے کہ عوام کے وسیع ترمفادات میں مثبت تبدیلی، اصلاحات اور انقلاب کو اشرافیہ سمیت تمام طبقات کی جانب سے تسلیم اور قبول کیا جائے گا۔تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب ہمیشہ نہتا بھوکا جتھا برپا کرتا ہے۔منشائے خداوندی سے ہمیشہ نہتا بھوکا جتھا ظالم اشرافیہ پر بھاری پڑتا ہے۔ ابتدا میں اشرافیہ اپنے حکم کے غلام اسلحہ برداروں کو نہتے بھوکے جتھے سے مقابلے کیلئے لا کھڑا کرتی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کی توپوں کے دھانوں کا رخ تبدیل ہوتا جاتا ہے کیونکہ یہی حکم خداوندی ہے۔عذاب خداوندی کے سامنے بلند خار دار بجلی کے کرنٹ والی دیواریں بھی قدمچے بن جاتی ہیں۔واضح ہدایت موجود ہے کہ ”بیشک، اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔“ (القرآن:سورۃ الرعد:۱۱)۔ یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ اس آفاقی حقیقت پر یقین رکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب یعنی خلیفہ بنا کر بھیجا ہے۔ انسان یعنی عوام اپنی آسانی کیلئے، اپنوں میں سے کچھ انسانوں کو، کچھ مدت کیلئے اپنا نمائندہ یا حاکم مقرر کرتا ہے اور اسی طرح حکومتی اداروں کی تشکیل کی جاتی ہے لہٰذا حکومتیں اور ادارے عوام کے ماتحت ہیں، بالادست نہیں۔پس عوام کی بالادستی کو متاثر کرنا غداری تصورکیا جائے گا۔ خوشحالی کے جھوٹ پر مبنی دعوؤں اور جعلی اعداد و شمار سے نہ حقائق بدلتے ہیں اور نہ پیٹ بھرتے ہیں۔
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ بین الاقوامی معیارات کے مطابق، ”اپنی مدد آپ“کے اصول پر کراچستان کی ازسرنو اصلاحاتی اور انقلابی ترقی کیلئے عملی اقدامات کرے گی۔ کراچستان اور اس کے باشندگان کیلئے جدیدمعیار کے مطابق اہمیت اور حیثیت کے حصول سمیت زندگی کے اہم شعبوں، مثلاً سماجی، سیاسی، تعلیمی، اقتصادی حقوق کی فلاح و بہبود، تحفظ اور فروغ کیلئے جدوجہد کرے گی۔ کراچستان، پاکستان سمیت ورلڈ سے متعلق اہم تفصیلات درج ذیل ہیں
پہلا: کراچی کے عوام اورآئین پاکستان
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ،کراچی کے عوام سے رابطہ کرکے، آئین اور قانون کے ماہرین کی مدد سے ایک جامع رپورٹ تیار کرے گی کہ آئین پاکستان کس طرح کراچی کے عوام کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے نیزاگر ضرورت پیش آئی تو آئین میں اصلاحاتی ترامیم کیلئے، متعلقہ اداروں سے باضابطہ روابط عمل میں لائے جائیں گے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ آئین پاکستان کے ثمرات، کراچی کے عوام تک، اس طرح بالکل بھی نہیں پہنچ پا رہے ہیں، جس طرح کراچی کے عوام کا آئینی حق ہے۔
دوسرا : عظیم کراچی کا نیا نام کراچستان
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ،کراچی کے موجودہ نام، ”کراچی“ کو کراچی کی وسعت کے مطابق وسیع اور تبدیل کرنے کیلئے عوامی مہم کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔ کراچی کیلئے نیا تجویز کردہ نام ”کراچستان“ یا اس سے بہتر اور مناسب نام کی تلاش کیلئے عوام سے رابطہ کیا جائے گاتاکہ منتخب نام سے کراچی کو آئینی اور قانونی طورپر موسوم کیا جائے۔ واضح رہے کہ کراچی کیلئے تجویز کردہ جدید وسیع نام، ”کراچستان“کراچی اور پاکستان کے باہمی ملاپ سے مرتب کیا گیا ہے۔ کراچی کے نام کی تبدیلی کیلئے، ارباب اختیار کو خطوط بھی لکھے جائیں گے۔اس ضمن میں صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین سینیٹ آف پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی، چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، فیلڈ مارشل پاکستان، تمام صوبائی وزرائے اعلٰی، تمام صوبائی گورنرز، تمام صوبوں کے چیف جسٹس،تجارت و صنعت کی تنظیموں، اردو ڈکشنری بورڈ، صوبائی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اخبارات اور سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت دیگر اکابرین پاکستان سے جلد تحریری رابطے کیے جائیں گے تاکہ ان تمام اکابرین کی مشاورت سے کراچی کے نام کی تبدیلی ممکن ہو سکے۔
تیسرا : قومی ریفرنڈم: برائے عظیم الشان شہرکراچی
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ، سمجھتی ہے کہ پاکستان کے استحکام سمیت عظیم شہرکراچی کے عوام کے اطمینان، سکون،ترقی، خوشحالی اور مستقبل کیلئے، درج ذیل تین ترجیحی سوالات پر، صوبائی اور وفاقی سطح پر، تمامتر ضروری مشاورت کے بعد، آئین اور قانون کے دائرہ میں، ایک آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ریفرنڈم ناگزیر ہو چکا ہے۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ اس ضمن میں عوامی مشاورت کے بعد، جلد ملک گیر”عوامی رابطہ مہم“کا آغاز کرے گی۔
اوّل ترجیح: کیا آپ،بحیثیت کراچی کے شہری، موجودہ صورتحال کے مطابق، جوں کا توں، بدستورحکومت سندھ کے زیر انتظام رہنا پسند کریں گے؟
دوئم ترجیح: کیا آپ،بحیثیت کراچی کے شہری،مستقبل میں، حکومت پاکستان (وفاقی حکومت) کے زیر انتظام رہنا پسند کریں گے؟
سوئم ترجیح: کیا آپ،بحیثیت کراچی کے شہری، مستقبل میں کراچی کو الگ آزاد خود مختارصوبہ بنا کر، اس میں رہنا پسند گے؟
واضح رہے کہ اگر کراچی کے عوام نے کراچی کو صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا تو اس کا مقصد، کراچی کی موجودہ حدود کے مطابق صرف انتظامی تقسیم ہوگا۔ کراچی صوبہ کا جو بھی نیا نام رکھا جائے یا کراچی ہی نام رہنے دیا جائے، اس پر یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ نیز نئے صوبہ میں کوئی دیگر علاقہ یا شہر شامل نہیں کیا جائے گا۔نئے صوبہ کا قیام لسانی نہیں ہوگا بلکہ لسانیت کے خلاف ہوگا۔کسی بھی وجہ سے اگر مجوزہ ریفرنڈم کا انعقاد ممکن نہیں تو بصورت دیگر گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن اور گیلپ پاکستان سمیت دیگر اداروں سے رابطہ ممکن ہے کہ وہ کراچی میں درج بالا ترجیحاتی سوالات کے تحت وسیع پیمانہ پر گرانڈ سروے کا انعقاد کریں۔تاہم، اگرضرورت ہوئی تو اس ضمن میں بھی متعلقہ عدالتی فورم استعمال کیاجا سکتا ہے۔
چوتھا : کراچستان سے عوام کی زندگیوں میں سماجی، معاشی، صنعتی اورتعلیمی انقلاب
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ،آئینی اور قانونی تبدیلی کے بعد، شہرکراچی کے نئے نام”کراچستان“ سے عوام کی زندگیوں میں سماجی، معاشی، صنعتی اورتعلیمی انقلاب برپا کرے گی تاکہ مذکورہ اقدامات مستقبل قریب میں پاکستان کے عوام کیلئے مشعل راہ بن سکیں۔اس ضمن میں صحت، تعلیم، روزگار، رہائش،ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی اور گیس کے وسائل کے علاوہ مہنگائی، سیوریج، آبادی کے مسائل، تجاوزات کا خاتمہ، انفراسٹرکچر، کراچستان کی شہری خوبصورتی، امن و امان کے حالات، سمندر اور ساحل سے جدید استفادہ سمیت بزرگ شہریوں کیلئے معیاری اولڈایج ہومز کی تعمیرسمیت دیگرمسائل کے حل کیلئے جدید عالمی معیارکے مطابق اقدامات کرے گی یعنی دنیا کی ہر سہولت جو جدید پر امن اور پر سکون زندگی کیلئے ضروری ہے، کا حصول ممکن بنایا جائے گا۔کراچستان ہر قسم کی بد امنی اور دہشتگردی سے محفوظ بین الاقوامی شہر ہوگا۔
پانچواں : کراچستان میں تجارت،صنعت،کاروبار، تعمیرات،ماہی گیری،سیاحت اور زراعت کا فروغ
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے ذریعہ،کراچستان میں ترجیح بنیادپر تجارت،صنعت،کاروبار، تعمیرات،ماہی گیری،سیاحت اور زراعت کے مکمل فروغ سمیت تمام اقسام کی کاروباری سرگرمیوں کیلئے مکمل سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے نیز پانی، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹیشن کے معاملات میں ظالمانہ ٹیکس کا خاتمہ کروایا جائے گا۔کراچی سے متعلق تمام کاروباری، تجارتی اورصنعتی تنظیموں کے مفادات میں مکمل تعاون کیاجائے گا۔ نیز اس ضمن میں درپیش تمام رکاوٹوں کے خلاف ضروری اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔
چھٹا : ۔تجارت اور صنعت سے وابستہ اہل قابل افراد، صدرمملکت اورصوبائی گورنرز کیلئے مقرر کئے جائیں
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ،پاکستان کے تمام متعلقہ اداروں سے مستحکم دلائل کی بنیاد پر مطالبہ کرے گی کہ صدر مملکت اورصوبائی گورنرز کیلئے، صرف تجارت اور صنعت سے وابستہ غیر سیاسی اہل اور قابل افراد مقرر کئے جائیں تاکہ تجارت اور صنعت کے قابل تجربہ کار افراد کے باعث، بین الاقوامی سطح پر پاکستانی معیشت کو استحکام مل سکے، جس کے اثرات پاکستان کی سیاست اور معاشرت پر بھی مرتب ہوں گے۔
ساتواں : تجارت اور صنعت سے وابستہ افراد کے ذریعہ امن و امان کے حصول کو یقینی بنایا جائے
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ،حکومت سندھ کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرے گی کہ کراچی کیلئے تعینات پولیس میں کراچی کی تجارت اور صنعت سے وابستہ اہل فرد کو،صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی منظوری سے اعزازی ڈپٹی انسپیکٹرجنرل آف پولیس تعینات کیا جائے۔ اعزازی ڈپٹی انسپیکٹرجنرل آف پولیس کومکمل اختیارات دیئے جائیں نیز معقول تعداد میں عملہ دیا جائے تاکہ تاجر، صنعتکار سمیت تمام بزنس مین اپنے مسائل کے فوری حل کیلئے براہ راست رابطے کر سکیں۔مزید برآں،کراچی چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر کے پاس مجسٹریٹ کے مکمل اختیارات ہونا لازم ہیں تاکہ تجارت اور صنعت سمیت کاروباری افراد اور ادارے مکمل سکون اور امن و امان کے ساتھ، پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔مناسب ہوگا کہ درج بالااقدامات پاکستان کی تمام چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کیلئے عمل میں لائے جائیں۔
آٹھواں: صدر دی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا اسٹیٹس وفاقی وزیر کے متوازی کیا جائے
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ،پاکستان کے تمام متعلقہ اداروں سے مستحکم دلائل کی بنیاد پر مطالبہ کرے گی پاکستان کی معیشت کی بین الاقوامی سطح پر بہترین شناخت کیلئے لازم ہے کہ صدر دی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا اسٹیٹس وفاقی وزیر کے متوازی کیا جائے۔
نواں : پاکستان کے تمام صدور برائے چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اسٹیٹس صوبائی وزیر کے متوازی کئے جائیں
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ،پاکستان کے تمام متعلقہ اداروں سے مستحکم دلائل کی بنیاد پر مطالبہ کرے گی پاکستان کی معیشت کی بین الاقوامی سطح پر بہترین شناخت کیلئے لازم ہے کہ پاکستان کی تمام چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور کے اسٹیٹس صوبائی وزیر کے متوازی کیے جائیں۔
دس : کراچستان میں قانون کی مکمل بالا دستی کیلئے پولیس کو مزید بھرپور اختیارات
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ، متعلقہ اداروں سے رابطہ کرے گی تاکہ کراچستان میں مکمل امن اور امان سمیت قانون کی مکمل بالا دستی کیلئے پولیس میں عملہ کے اضافہ کے ساتھ،مزید بھرپور اختیارات تفویض کئے جائیں تاکہ جرائم کا مکمل خاتمہ کیا جائے نیزانتہا پسندی سمیت دہشت گردی کی تمام اقسام سے انتہائی سختی سے نپٹا جائے۔ استحصالی طاقتوں کے بھرپور مقابلے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت عدلیہ سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔
گیارہ : کراچستان میں عوام کے مینڈیٹ کا تحفظ
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، متوازی اور متوازن عوامی تنظیم اور تحریک کی طاقت، قوت اور دباؤ سے، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور مقامی حکومتوں کے منتخب نمایندگان سے عوام کے مینڈیٹ اور ان کے عوام سے کئے گئے وعدوں پر اخلاقی ، آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق، وسیع تر عوامی مفادات میں عمل کروائے گی۔تاہم، عوام کی طاقت، قوت اور دباؤ کو انتہائی ناگزیر حالات میں بحالت مجبوری استعمال کیا جائے گا۔
بارہ : یونائیٹڈ کراچستان ڈویلپمنٹ کونسل اور کراچستان سوموٹو سپریم کونسل
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے ماتحت یونائیٹڈ کراچستان ڈویلپمنٹ کونسل اور کراچستان سوموٹو سپریم کونسل کے تمام عہدیداران اپنے دائرہ اختیار کے مطابق عوام سے مسلسل روابط رکھیں گے اورمشورہ جاتی عمل جاری رکھیں گے اور کراچستان کے شہریوں کو درپیش مسائل کی تفصیلات حاصل کریں گے، ان کا ازخودمطالعہ کریں گے اور ان کا تجزیہ کریں گے اور ان مسائل کے قابل عمل حل کے ساتھ اپنی رپورٹس ماہانہ بنیادوں پر ہیڈ آفس کو فراہم کریں گے تاکہ ان کی روشنی میں کراچستان کے مسائل کو حل کرنے کی مجموعی کوشش کی جا سکے۔
تیرہ : یونائیٹڈکراچستان موومنٹ اورآئین، قانون و اسلامی نظریہ
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ پاکستان کے آئین، قانون سمیت اسلامی نظریہ کے خالف کوئی کام نہیں کرے گی اور غیر قانونی اور نامناسب سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہرگزنہیں کرے گی۔
:یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ،پہلے تعمیر کراچستان کے منصوبہ کی تکمیل کے بعد، پھرتکمیل پاکستان کیلئے مخصوص حکمت عملی اور قابل عمل منصوبہ کا اعلان کرے گی۔جس کے مطابق چند نکات درج ذیل ہیں
پہلا: یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے تحت ارباب اختیار اور اقتدار کو آئینی اور قانونی طورپر آمادہ اور مجبور کیا جائے گا کہ پاکستان کے عوام کو بغیر کسی بھی ٹیکس تعلیم، روزگار، علاج، مکان، بنیادی راشن کی فراہمی کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ مساجد سمیت تمام مسلم اور غیر مسلم عبادت گاہوں، جن کے اپنے آمدنی کے ذرائع نہیں، بلا امتیاز تمام یوٹیلیٹی بلز اور ٹیکس معاف کئے جائیں۔
دوسرا : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ جدوجہد کرے گی کہ لسانیت کی بنیاد پر قائم موجودہ صوبوں کی جگہ تمام ڈویژنوں کو صوبوں کا درجہ دیا جائے یا ایک کروڑ آبادی پر مشتمل نئے صوبے تشکیل دیئے جائیں۔پاکستان کے موجودہ تمام ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کو ازسرنو تشکیل دیا جائے گا۔پاکستان کے تمام اداروں سے لسانیت، علاقائیت اور تعصبات کا خاتمہ کیا جائے۔
تیسرا : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ،پاکستان بھر میں جدوجہد کرے گی کہ مسائل کو حل کرنے کیلئے، امام مسجد کو بلا تفریق اور امتیاز، متعلقہ محلہ اور علاقہ میں، معقول معاوضہ پر انتظامی ذمہ اریاں اور اختیارات دئیے جائیں۔
چوتھا : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ،پاکستان میں معاشی پسماندگی،صنعتی پسماندگی، زراعتی پسماندگی، اخلاقی پسماندگی،سماجی پسماندگی، سیاسی پسماندگی،تعلیمی پسماندگی، صحت و طبی پسماندگی، دفاعی پسماندگی،عدالتی پسماندگی، خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی کی پسماندگی سمیت تمام اقسام کی پسماندگیوں کے خاتمے اورمجموعی ترقی اور خوشحالی کیلئے، مخصوص حکمت عملی پر عملدرآمد کرے گی۔
پانچواں : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ،نیشنل چارٹرڈ آف ڈیمانڈز کے تحت پاکستانی عوام کی جانب سے موصولہ مطالبات کے مطابق ضروری عملدرآمد ممکن بنائے گی۔
چھٹا : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، سمجھتی ہے کہ اسلام اور جدیدیت کے مضبوط انضمام کیلئے،طاقتور”اسلامی اجتہادی اور نظریاتی کونسل“ کی تشکیل ناگزیر ہے تاکہ وسیع تر اختیارات کے ذریعہ”احیائے اصل دین اسلام“ ممکن ہو سکے۔
ساتواں : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، پاکستان کے عوام اور خزانہ پر بوجھ تمام اداروں اور محکموں کو ختم کرے کیلئے، دلائل کی بنیاد پر جامع رپورٹ تیار کرے گی۔
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ اپنی مخصوص تیارکردہ حکمت عملی کے ذریعہ، پاکستان دوست ممالک سمیت تمام عالمی اداروں سے کراچستان بشمول پاکستان کیلئے گرانقدر تعاون حاصل کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، دنیا بھر کے مظلوم مہاجرین، متاثرین اور پناہ گزین افراد کی عملی امداد کیلئے نیزدنیا بھر میں جاری جنگ و جدال روکنے، ظلم و قتال ختم کرنے اوردنیا میں اسلحہ سے پاک مکمل حقیقی امن قائم کرنے کیلئے اپنے مثبت اور مؤثر اقدامات پر عملدرآمد کر سکتی ہے۔
:یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ،کراچی اور کراچی کے عوام سے متعلق درج ذیل معاملات کے ضمن میں تحریری تجاویز مع دلائل،متعلقہ اداروں کو برائے فوری عملدرآمد ارسال کرے گی
پہلا: کراچی میں علم اور تعلیم سے متعلق تجاویز
کراچی میں بالا تاخیر اور فوری طور پر وائی فائی، انٹرنیٹ کی سہولت مفت فراہم کی جائے تاکہ قوم کو بلا رکاوٹ،سرحدوں کی پابندی کے بغیر،بین الاقوامی معلومات تک رسائی کی سہولت حاصل ہو سکے۔جیسا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل 19میں بیان کیا گیا ہے:”ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہار رائے کی آزادی کاحق حاصل ہے۔اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے اور جس ذریعہ سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کئے، علم اور خیالات کی تلاش کرے۔ انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے“ ۔
• کراچی میں بالا تاخیر اور فوری طور پر فروغ تعلیم کیلئے، ابتدائی طور پر دس (10) سال تک تمام تعلیمی اداروں (اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں) کو پابند کیا جائے کہ وہ طلبہ و طالبات کو صرف پچیس (25)فیصد نمبر حاصل کرنے پریاپچہتر (75) فیصد حاضری پرپاس،یعنی کامیاب قرار دیں اور قوم سمیت طلبہ اور طالبات کو کسی بھی قسم کے نام نہاد غیر ملکی طریقہ امتحانات کی احمقانہ آزمائش میں نہیں ڈالا جائے۔
دوسرا : کراچی کی زمین سے متعلق تجاویز
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اپنے فرائض بخوبی ادا نہیں پا رہی ہے لہٰذا مناسب ہوگا کہ صرف کراچی کیلئے،ہائی کورٹ آف سندھ کی زیر نگرانی، ایک الگ اور بااختیار محکمہ”کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی“قائم کیا جائے۔
2. کراچی میں، ہائی کورٹ آف سندھ کی زیر نگرانی، تجاوزات کیلئے انتہائی طاقتور با اختیار ادارہ قائم کیا جائے تاکہ ادارہ کسی عام شخص کی شکایت پر یا ازخود کسی بھی تجاوزات کے شروع ہوتے ہی کارروائی کرسکے نیزتجاوزات پر انہدام کا مکمل خرچ متعلقہ قابض شخص سے وصول کیا جائے۔
کراچی کے ساحل پر واقع تمام جزائر کو ازسرنو قومی اور معاشی ضروریات کے مطابق جدید انداز میں تعمیر اور آباد کیا جائے۔ آبادکاری اور تبدیلی میں پہلی ترجیح مقامی افراد کو دی جائے۔
کراچی کی تمام رجسٹرڈ کوآپریٹؤ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مسائل،ہائی کورٹ آف سندھ کی زیر نگرانی، ترجیح بنیاد پرایک سال میں حل کئے جائیں۔
کراچی کی تمام اقسام کی زرعی زمین کی ہاؤسنگ اسکیم کیلئے فروخت پرپابندی لگائی جائے۔ تاہم، انتہائی ناگزیر صورتحال پر نان آبجیکشن سرٹیفیکٹ جاری کیا جائے۔
کراچی کی رہائشی، تجارتی اور صنعتی اراضی کی فروخت پر گارنٹی لازم ہو کہ مذکورہ زمین رہائشی، تجارتی اور صنعتی مقاصد کیلئے خریدی جا رہی ہے، سرمایہ کاری کیلئے نہیں۔ بصورت دیگر، منظور کردہ مدت کے بعد، حکومت خریدی گئی قیمت ادا کرکے، مذکورہ زمین نیلام کر دے۔
کراچی میں مدتوں سے رفاعی مقاصد کیلئے الاٹ کی گئی زمین، اپنے منظور کردہ مقاصد کے مطابق استعمال نہیں ہونے پر فوری طور پر ضبط کر لی جائیں۔
کراچی میں بجلی کی تنصیبات کیلئے صرف اعلٰی درجہ کا تانبہ کے تار اور گیس کیلئے اعلٰی درجہ کے اسٹیل کے پائپ استعمال کئے جائیں۔
رہائشی علاقوں میں گلی اور درمیانی روڈز کے مکانات کا کمرشل استعمال بند ہونا چاہئے۔
مستری، پلمبر، الیکٹریشن قسم کے پیشہ ور افراد مع ٹھیکدار افراد پر پابندی ہونا چاہئے کہ کسی بھی صورت میں غیر مجاز تعمیرات اور تنصیبات نہیں کریں۔
تیسرا : کراچی کے پانی، بجلی، گیس، سیوریج، ٹرانسپورٹ کے متعلق تجاویز
کراچی کے عوام کیلئے پانی، بجلی، گیس اور سیوریج کے ضمن میں متعلقہ اداروں کو آمادہ کیا جائے گا کہ وہ کراچی کے عوام کی مالی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے، ایک مرتبہ تمام واجبات مکمل فراخدلی سے معاف کر دیں۔ متعلقہ اداروں کا مطلوبہ اقدام کراچی کے عوام کیلئے، بہت عظیم احسان ہوگا۔
کراچی کے عوام سے التماس ہے کہ پانی، بجلی اور گیس کی چوری سے اجتناب کریں اور قانون پسند شہری بن کر، اس قسم کی چوری کی وارداتوں کے بارے میں متعلقہ اداروں کو مطلع کریں۔
کراچی سے متعلق تمام یوٹیلیٹی بلوں کی بغیر کسی قیمت کے، معیاری سائز میں، جو بآسانی پڑھے جا سکیں، ادائیگی کی تاریخ سے پندرہ دن قبل فراہمی ممکن بنوائی جائے۔
کراچی سے متعلق بجلی اور گیس کے ماہانہ بلوں میں سے سلیب سسٹم، پروٹیکٹیڈ، نان پروٹیکٹیڈ وغیرہ اقسام کی تمام ظالمانہ اصطلاحات اور ظالمانہ ٹیکس ختم کر دیئے جائیں۔
کراچی میں کسی بھی علاقہ میں چوری کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کا کوئی قانونی جواز قابل قبول نہیں۔ کسی بھی علاقہ میں بجلی چوری کی ذمہ داری متعلقہ محکمہ کے متعلقہ ذمہ داران پر عائد کی جائے۔
کراچی میں زیر زمین پانی کے کنیکشن، گیس کے کنیکشن سمیت بجلی کے کنیکشن ہنگامی بنیادوں پر چیک کئے جائیں۔ پانی، گیس اور بجلی کی چوری سمیت گٹر کے ڈھکن کی چوری کرنے پر چوروں کے علاوہ متعلقہ محکمہ کے متعلقہ عملے کو بھی سخت سزائیں دی جائیں۔
چوتھا: کراچی کے عوامی معاملات سے متعلق تجاویز
کراچی میں عوامی معاملات سے متعلق اداروں میں کسی بھی قسم کے تعطل کی ممانعت لازم کر دی جائے۔ ڈاکٹرز، وکلا سمیت کسی کو بائیکاٹ اور ہڑتال کی قطعی اجازت نہیں ہونا چاہئے۔
کراچی میں کسی بھی قسم کی سماجی اور مذہبی تقریبات کیلئے گلیوں اور سڑکوں کو بند کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہو۔نیز کسی بھی سیاسی جلسہ، جلوس یا ریلی کیلئے بھی روڈ اور گلی کو بند یا بلاک نہیں کیا جائے۔ کنٹینرز کوراستے بلاک کرنے کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔کسی بھی سڑک پر شامیانہ لگانے کیلئے، میخوں کے سوراخ کا بھی جرمانہ وصول کیا جائے۔
کراچی میں کسی بھی دکان اور ہوٹل کے سامنے کسی بھی فٹ پاتھ کو کاروباری مقاصد کیلئے استعمال نہیں کرنے دیا جائے۔
کراچی میں سروس روڈز اور گلیوں کو مستقل بنیاد پر ناقابل استعمال گاڑیوں کے استعمال نہیں کیا جائے۔
کراچی میں کسی بھی قسم کی وال چاکنگ اور دیواروں پر تشہیر ممنوع قرار دی جائے۔متعلقہ افراد کو قانون کے مطابق عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔
کراچی میں مفت دستر خوان جیسے تمام پروگرام ختم کر دیئے جائیں۔ قوم کو بھکاریوں کا ٹولہ بنانے کے بجائے محنت کش بنایا جائے۔
کراچی میں کاروبار کے نام پرفحاشی کے تمام اڈوں کوبند کر دیا جائے۔ متعلقہ افراد کو قانون کے مطابق عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔
کراچی میں چور، ڈاکو، اسٹریٹ کریمنل، قبضہ مافیا،نشہ بازوں، بھکاریوں،مچھر، مکھیوں، آوارہ کتوں سے پاک معاشرہ قائم کیا جائے۔
چوری کا مال خریدنے والے کباڑیوں کو قانون کے مطابق عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔
کراچی میں جعلی حکیم اور جعلی ڈاکٹروں پر سخت پابندی عائد کی جائے۔
کراچی میں جادو ٹونہ، علم نجوم، تعویز گنڈے، عملیات، وظائف کی تمام اقسام پر پابندی عائد کی جائے۔متعلقہ افراد کو قانون کے مطابق عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔
پانچواں: یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے بنیادی تنظیمی اصول
پہلا: یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، ایک”اصلاحاتی اور انقلابی تحریک“ہے، جو، حکومت سندھ اورعوام کے منتخب نمایندگان کی جانب سے، عوامی مینڈیٹ کے مطابق عمل نہیں کرنے کی وجہ سے، رد عمل کے طور پر،بلا امتیاز کراچستان کے متحدہ شہریوں کے سماجی،معاشی، تعلیمی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کیلئے معرض وجود میں لائی گئی ہے،لہٰذایونائیٹڈکراچستان موومنٹ حکومتی اقتدار اور حکومتی عہدوں کیلئے، پاکستان میں منعقدہ کسی بھی قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں حصّہ نہیں لے گی۔
دوسرا : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کسی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت سے کسی بھی قسم کے تصادم کی پالیسی اختیار نہیں کرے گی جبکہ کراچستان اور پاکستان کے مثبت معاملات میں مشروط تعاون ممکن ہو گا۔ تاہم، کراچی اور پاکستان کی سا لمیت، استحکام اور عوام کے مفادات کے خلاف ہر عمل اور اقدام کی بھرپور مذمت اور مخالفت کی جائے گی۔
تیسرا : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، عوام کی تنظیم اور تحریک کی طاقت، قوت اور دباؤ سے، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے منتخب نمایندگان سے عوام کے مینڈیٹ اور ان کے عوام سے کئے گئے وعدوں پر اخلاقی، آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق، وسیع تر عوام کے مفادات میں عملدرآمد کروائے گی۔تاہم، عوام کی طاقت، قوت اور دباؤ کو انتہائی ناگزیر حالات میں بحالت مجبوری استعمال کیا جائے گا۔
چوتھا : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ، کراچستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے، عہدیداران کی جانب سے موصولہ رپورٹس کی روشنی میں، پاکستان دوست ممالک اور عالمی اداروں سے آئین اور قانون کی حدود میں، مشاورتی اور عملی تعاون کے حصول کیلئے رابطے کرے گی۔
پانچواں : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کا لسانیت، صوبائیت، فرقہ واریت، سیاسی وراثت سمیت کسی بھی قسم کی عصبیت سے کوئی تعلق ہرگز نہیں ہوگا۔یونائیٹڈکراچستان موومنٹ ایسے تمام منفی اقدامات کے خلاف بھرپور جد و جہد کرے گی، جن کے باعث لسانیت، صوبائیت، فرقہ واریت، سیاسی وراثت سمیت مختلف اقسام کی نفرت اور عصبیت جنم لیتی ہیں اور بالآخر، پاکستان کی سا لمیت، دفاع، ترقی، خوشحالی اور عظمت کی راہ میں سنگین رکاوٹ بنتی ہیں۔یونائیٹڈکراچستان موومنٹ انتہائی سختی سے، سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں موجود اقربا پروری اور سیاسی وراثت کی مخالفت کرے گی تاکہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے با صلاحیت سیاسی کارکنوں کو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع میسر ہو سکیں۔
چھٹا: یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کے تحت کراچستان کے جملہ مسائل اور ان کے تدارک کیلئے عوام رابطہ مہم کا آغازکیا جائے گا۔ یونائیٹڈکراچستان موومنٹ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے، پبلک میٹنگ،پریس کانفرنس سمیت مخصوص مقامات پر پر امن مظاہروں کا انعقاد کرے گی اور دھرنوں، ریلیوں، جلسے اور جلوسوں سے حتی الامکان اجتناب کرے گی تاکہ ماحول پر امن رہے اور کسی بھی قسم کاپر تشدد ماحول جنم نہیں لے سکے۔ تاہم، پُرامن جلسے اور جلوس کا انعقاد ممکن بھی ہوگا۔یونائیٹڈکراچستان موومنٹ مقاصد کے حصول کیلئے ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق افراد سے ملاقاتوں کے علاوہ بینرز، پمفلٹ، کتابچوں، خط و کتابت سمیت جدیدسوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قانون کے مطابق بھرپور مثبت استعمال کرے گی۔
ساتواں : یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ منشور پر عملدرآمد کیلئے، مختلف کونسل اور کمیٹیاں تشکیل دے گی۔ ابتدائی طور پریونائیٹڈ کراچستان ڈویلپمنٹ کونسل اورکراچستان سوموٹو سپریم کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل ہونے کے بعد، باقاعدہ نیشنل ہیڈ کوارٹرز اور ذیلی دفاتر قائم کئے جائیں گے تاہم تنظیمی ضرورت کیلئے، عارضی طور پر، کراچستان ہاؤس: کوثر ٹاؤن، ملیر، کراچی 75080، پاکستان، بطور نیشنل ہیڈ کوارٹرز استعمال کیا جائے گا۔
پہلا: یونائیٹڈ کراچستان ڈویلپمنٹ کونسل
یونائیٹڈ کراچستان ڈویلپمنٹ کونسل،پاکستان کے آئین کے مطابق،کراچستان کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے بھرپور جدوجہد کرے گی۔یونائیٹڈکراچستان ڈویلپمنٹ کونسل بین الاقوامی معیارات کے مطابق کراچستان کی ازسرنو اصلاحاتی اور انقلابی ترقی کیلئے عملی اقدامات کرے گی۔ کراچستان اور اس کے باشندگان کیلئے جدیدمعیار کے مطابق اہمیت اور حیثیت کے حصول سمیت زندگی کے اہم شعبوں، مثلاً سماجی، سیاسی، تعلیمی، اقتصادی حقوق کی فلاح و بہبود، تحفظ اور فروغ کیلئے بھرپور جدوجہد کرے گی۔ یونائیٹڈ کراچستان ڈویلپمنٹ کونسل،تمام جنرل ممبرز اور اسپیشل ممبرز سمیت تمام عہدیداران کے معاملات کی نگران ہوگی۔
دوسرا: کراچستان سو موٹو سپریم کونسل
کراچستان کی مختلف ایسوسی ایشنز، غیر سرکاری تنظیموں سمیت پرائیوٹ اور سرکاری اداروں کے ریٹائرڈقابل قدرافراد بشمول اساتذہ،عدلیہ اورسابقہ ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان پر مشتمل،کراچستان سوموٹو سپریم کونسل اپنی قابلیت، تجربات،مشاہدات اور تعلقات کے مطابق، کراچستان اور اس کے باشندوں کی بھرپور خدمت کرے گی۔ کراچستان سوموٹو سپریم کونسل کا بنیادی مقصد عوامی مفادات سے متعلق سیاسی، معاشی، معاشرتی، عدالتی، تعلیمی، مذہبی اور امن و امان کے مسائل اور معاملات میں، آئین اور قانون کے دائرہ میں، از خود مداخلت کرنا ہو گا تاکہ مذکورہ مسائل اور معاملات معقول اور منطقی اندازسے حل کئے جا سکیں۔کراچستان سوموٹو سپریم کونسل کا مقصد متعلقہ اداروں سمیت صوبائی اور وفاقی حکومت سےتعاون حاصل کرکے، مشکلات کو ختم کرنا ہو گا۔کراچستان سوموٹو سپریم کونسل میں ممبران کی شمولیت، ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت کی جائے گی۔ صرف خط و کتابت، ملاقات، مذاکرات، افہام و تفہیم اور عدالت و انصاف کے مہذبانہ طریقہ کو اختیار اور استعمال کیا جائے گا۔
تیسرا: یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ میں شمولیت کے بنیادی اصول
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ میں، قومی شناختی کارڈ ز کا حامل شخص شمولیت کیلئے، مقررہ فارم پرجنرل ممبر شپ اور اسپیشل ممبرشپ کیلئے درخواست دے سکتا ہے۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ میں، قرآن مجید کی عظمت کے باعث شمولیت کیلئے، کبھی بھی، کسی بھی قسم کے حلف کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ تمام ممبران اورعہدیدار سمیت تمام دیگر وابستہ افراد اپنے ضمیر کی پاسداری اور افعال کی ذمہ داری کے خود ذمہ دار ہوں گے۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ میں جرائم پیشہ افراد اور قبضہ مافیا گروپ یا افراد، کیلئے شمولیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم، اگرریاست یا کسی ادارہ کی مقبوضہ زمین، قانونی عمل کے ذریعہ، جائز طور پر حاصل کرلی جائے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔گلیوں، سڑکوں پر تجاوزات قائم رکھنے والوں اور پانی، بجلی اور گیس چوری کرنے والوں کی کوئی گنجائش نہیں۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ میں، شامل ہونے سے قبل یا بعد میں،جنرل ممبریا عہدیدار سمیت تمام دیگر وابستہ کوئی فرد کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو تنظیمی نظام کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ مذکورہ فرد کے غیر قانونی افعال کی قطعی ذمہ دار نہیں ہوگی اور مذکورہ جنرل ممبر کو کسی بھی قسم کا تنظیمی اور قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا۔جنرل ممبر اورعہدیدار سمیت تمام دیگر وابستہ افراد جب چاہیں یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ سے تعلق ترک کر سکتے ہیں تاہم، مناسب ہوگا کہ اس ضمن میں باقاعدہ تحریری طور پر یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کو مطلع کریں۔بغیر کسی تحریری اطلاع کے، تیس دن تک غیر فعالیت کو ترک تعلق قرار دیا جائے گا۔ یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ سے ترک تعلق کے بعد، کسی بھی صورت میں یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ میں دوبارہ شمولیت ممکن نہیں ہو گی۔
چوتھا: جنرل ممبر شپ
یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کی تنظیم میں جنرل ممبربنیادی اہمیت کا حامل ہوگا۔ کسی بھی معاملہ اور فیصلہ میں جنرل ممبرز کی تحریری تجویز، مشورہ اور تنقید کا اہم ترین کردار ہوگا، جس کو بغیرکسی معقول وجہ کے،نظر انداز اور مسترد نہیں کیا جائے گا۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ سمیت تمام ذیلی تنظیموں میں، مختلف تنظیمی عہدوں پر تقرری کیلئے، یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کی جنرل ممبر شپ لازم ہو گی۔یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی تنظیم سازی میں ابتدائی طور پر پانچ (5) سال تک اہلیت، قابلیت، معیار اور ضرورت کے مطابق جنرل ممبرز کو مختلف تنظیمی عہدوں پرتعینات کیاجائے گا تاہم مقررہ مدت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ مذکورہ طریقہ کار کو جاری رکھا جائے یا تنظیمی عہدوں کیلئے انتخابات کا نظام رائج کیا جائے۔یونائیٹڈکراچستان موومنٹ سمیت، کسی بھی ذیلی تنظیم میں کسی بھی عہدہ کے حصول کیلئے، علاقائی رہنما کیلئے کم از کم دس (10) افراد کا گروپ ہونا لازم ہے، جو مذکورہ عہدیدار سے متفق اور حامی ہوں اور یونائٹیڈ کراچستان موومنٹ کے جنرل ممبرز بھی ہوں۔
پانچواں: اسپیشل ممبر شپ
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ میں کسی بھی مذہبی جماعت، سیاسی جماعت، این جی او یا دیگر ادارے سے تعلق رکھنے والا شخص، اپنی جماعتی اور تنظیمی رکنیت برقرار رکھتے ہوئے، اپنی مذہبی جماعت، سیاسی جماعت، این جی او یا ادارے کی تحریری اجازت (این او سی)سے، اپنے شہری بنیادی انسانی حقوق کی جدو جہد میں اور حصول کیلئے یونائیٹڈکراچستان موومنٹ کی اعزازی اور رضاکارانہ بنیاد پر اسپیشل ممبر شپ حاصل کر سکتا ہے۔ اسپیشل ممبر کسی بھی معاملہ میں اپنی تحریری تجویز اور تنقید سے تحریری طور پر مطلع کر سکتا ہے، جس کو بغیر کسی معقول وجہ کے،نظر انداز اور مسترد نہیں کیا جائے گا۔اسپیشل ممبرزکو سوشل ایڈووکیٹ، پولیٹیکل ایڈووکیٹ، ایجوکیشنل ایڈووکیٹ، اکونومی ایڈووکیٹ سمیت اہم ممتاز مشاورتی عہدوں پر، منظوری کے بعد تعینات کیا جا سکتا ہے۔
چھٹا: کراچستان کی ایریاز کمیٹی کے رہنما، سپروائیزرز اینڈ منیجرز
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی تنظیم سازی کیلئے ابتدائی طور پر علاقائی رہنما درکار ہیں۔کراچستان کی ایریاز کمیٹی کےرہنما کیلئے کم از کم دس(10) مقامی افراد کی تائید اور حمایت لازم ہو گی۔جنرل ممبرز میں سے، منتخب شدہ عہدیداران کوکراچستان کے تمام علاقوں کے معاشی، سیاسی، سماجی، تعلیمی مسائل کے حل کیلئے، قابل عمل اور مؤثر پلیٹ فارم مہیا کیا جائے گا۔واضح رہے کہ تمام مقامی رہنما، اپنے علاقہ کے ممبرنیشنل اسمبلی،ممبر صوبائی اسمبلی، مقامی حکومت کے چیئرمین اور کونسلروں سے زیادہ اہمیت اور طاقت کے حامل ہوں گے کیونکہ ممبرنیشنل اسمبلی،ممبر صوبائی اسمبلی، مقامی حکومت کے چیئرمین اور کونسلروں کے ووٹروں کی تعداد کم اور محدود ہوتی ہے جبکہ یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کے عہدیدار، اپنے علاقہ کے تمام ووٹرز سمیت دیگر افراد کیلئے فعال اور سرگرم عمل ہوں گے اور ان سب کے مینڈیٹ کی حفاظت کے ذمہ دار اور نگران (کسٹوڈین) ہوں گے۔”پہلے کراچستان، پھر پاکستان“کے مسائل کو حل کرنے اور کراچستان اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی سے دلچسپی رکھنے والے، پرُعزم اورمثبت اصلاحاتی اورانقلابی سوچ کے حامل افراد اعزازی اور رضاکارانہ ممبر شپ کیلئے،جنرل ممبر شپ فارم مع گروپ فارم برائے دس(10) افرادپر درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی تنظیم سازی کراچستان اور پاکستان سمیت بین الاقوامی سطح پر کی جائے گی۔ایک منیجر کے ماتحت دس (10)سپروائیزراپنے علاقائی فرائض کے ذمہ دار ہوں گے۔
ساتواں: یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی مستقل تنظیم
یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کا مقصد کراچی کے عوام کے مسائل اور ان کا ممکنہ تدارک ہے لہٰذا،ابتدائی طور پر کراچی کے عوام کی آسانی کیلئے،کراچی کے مسائل کی نشاندہی،ان کے ممکنہ حل اور تدارک کیلئے، ابتدائی تنظیم سازی کے بعد، یونائیٹڈ کراچستان موومنٹ کی تنظیم کراچی کے موجود تمام ڈسٹرکٹ کی حدود،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں اور پولیس اسٹیشن کی حدود بشمول مختلف ایریا کی حدود کی بنیاد پر مستقل تنظیم تشکیل دی جائے گی تاکہ ضلعی انتظامیہ،،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے، آئین اور قانون کے مطابق، عوام کے مسائل ممکنہ طور پر حل کئے جا سکیں۔ جن کی تفصیلات درج ذیل ہوں گی
یونائیٹڈ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرز
یونائیٹڈ نیشنل ممبرز
یونائیٹڈ پراونشل ممبرز
یونائیٹڈ چیف آفیسرز
یونائیٹڈ ایریا آفیسرز
© United Krachistan Movement| All rights reserved.