اغرابیہ کی تاریخ

نیشنل اکیڈمی آف پولیٹیکل اؤیرنیس کے نیوز لیٹر: نومبر 2011 میں شائع کردہ مضمون میں، پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا اصطلاحی، اصلاحاتی اور انقلابی لفظ ”اغرابیہ“۔

عنوان: اشرافیہ اور اغرابیہ کے نمایندگان اسمبلی و سینیٹ

پاکستانی معاشرہ واضح طور پر دو حصوں میں منقسم ہے، ایک طبقہ عوام، دوسرا طبقہ خواص کہلاتاہے۔ مزید تفصیل میں جانے سے قبل ان کے معنی و مفہوم کو سمجھانا ضروری ہے۔ لفظ عوام کے معنی عامہ کی جمع، عام لوگ رعایا جبکہ لفظ اشراف شریف کی جمع یعنی عزت دار،مہذب اور شائستہ لوگ، جن کی جمع اشرافیہ یعنی حکومتِ امرا، جس میں چند مخصوص اور با اثر لوگ ہی اقتدار اعلیٰ کے مالک ہوتے ہیں، یعنی خواص کی حکومت، جیسا کہ پاکستان میں روز اوّل ہی سے حکومت، انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور عسکر یہ پر صاحب ثروت، مراعات یافتہ خاندانوں کاکنٹرول رہا ہے، ان خاندانوں میں خان، سردار، وڈیرے، جاگیردار، چوہدری،سرمایہ دار اور ان کے نمائندے شامل ہیں، جن کو سیاستدان نہیں بلکہ سیاست پیشہ کہہ سکتے ہیں۔ اشرافیہ کے مد مقابل لفظ ”اغرابیہ“یعنی غریب کی جمع استعمال کیا جا سکتا ہے،جس سے واضح مراد عام آدمی یعنی عوام ہے۔ واضح رہے کہ اب ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کو ایک متفقہ سازش کے تحت اشرافیہ کی اولاد کو مستقبل میں حکمرانی کیلئے ذہنی طور پر تیار کیا جارہا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر اتفاق سے کوئی عام آدمی یعنی عوام سے تعلق رکھنے والا شخص ہالہ اقتدار میں شامل ہو جائے تو وہ اپنی تمام اپنی تمام صلاحیتوں کے باوجود جلد ہی اقتدار کا تابع فرمان ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ خواص اور عوام ایک دوسرے کے مسائل اور ضروریات کو سمجھنے سے قاصر ہیں لہٰذا یہی وجہ ہے کہ خواص کی حکومتوں کے باوجود آج تک عوام کی حالت نہیں بدل سکی۔ اشرافیہ کی بیخ کنی کرنے سے بہتر ہے کہ ان کے وجود کو تسلیم کر کے، اشرافیہ (خواص) اور اغرابیہ (عوام) کی تعریف اور حد مرتب اور معین کی جائے جس کے تحت دونوں طبقے آیندو اپنی مخصوص نشستوں کیلئے انتخابات میں حصہ لے سکیں یعنی عوام کے نمایندے، عوام سے ووٹ لے کر اور خواص کے نمایندے اپنے طبقے سے ووٹ لے کر ایوانوں میں جا کر ملک وقوم کی خدمت کریں۔ بلا شبہ یہی واحد طریقہ ہے کہ عوام اشرافیہ کے قبضہ سے آزاد ہوں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چاہئے کہ عوام اور خواص کیلئے علیحدہ ووٹرلسٹ تیار کرے تا کہ ملک میں آزاد جمہوریت فروغ پائے۔ واضح رہے کہ اس طرح کے اقدامات خود اشرافیہ کے حق میں بہتر ہوں گے وگرنہ ان کے جبر و استبداد کے باعث آنے والی کالی آندھی انہیں ان کے نوزائیدوں سمیت ملیا میٹ بھی کر سکتی ہے۔

© United Krachistan Movement| All rights reserved.